.

مسئلہ فلسطین اولین ترجیح تھی اور رہے گی: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے باور کرایا ہے کہ مسئلہ فلسطین مملکت کے لیے اولین معاملہ تھا اور اب بھی ہے۔ مملکت تمام وسائل اور راستوں سے فلسطینی عوام کی سپورٹ میں نہ کبھی جھجکی اور نہ آئندہ کبھی جھجکے گی۔ اس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے قانونی حقوق واپس دلانا اور 1967ء کی حدود پر مکمل خود مختاری کی حامل ایک فلسطینی ریاست کا قیام ممکن بنانا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہے۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے فلسطینی اراضی میں اسرائیلی استعماری پالیسی میں تیزی آنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں سیکڑوں فلسطینی گھرانوں کی ان کے گھروں سے بزور طاقت بے دخلی پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں قابض اسرائیلی حکام کو نسل پرست عدالتوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ سعودی مندوب نے ان مواقف کا اظہار جنیوا میں منعقد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ یہ اجلاس مقبوضہ فلسطینی اراضی میں اسرائیل کی جانب سے حالیہ خلاف ورزیوں کو زیر بحث لانے کے واسطے منعقد ہوا۔

ڈاکٹر الواصل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ہر ممکن طور پر اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور، چوتھے جنیوا کنونشن، انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرار داد 2334 سمیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت سعودی عرب اسرائیل کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں مغربی کنارے میں اسرائیلی دیوار، یہودی بستیوں کی آباد کاری، فلسطینیوں کی املاک کی تباہی اور ان کی اپنے گھروں اور زمینوں سے جبری بے دخلی شامل ہے۔

الواصل نے امن کو یقینی بنانے اور مقبوضہ فلسطینی اراضی میں متاثرین کو انسانی اور طبی امداد پہنچانے کے لیے تمام تعمیری کوششوں کا خیر مقدم کیا۔