.

اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم نے اپنے ہی ڈرون طیارے مار گرائے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام "آئرن ڈوم" اس کے شہروں کو راکٹ اور میزائلوں حملوں سے بچانے میں مرکسی کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم غزہ کی پٹی کے خلاف حالیہ جنگ کے دوران میں آئرن ڈوم نے اسرائیلی فوج کے ڈرون طیاروں کو بھی مار گرایا۔ اس بات کا انکشاف عکسری امور سے متعلق جریدے Military Watch نے کیا ہے۔

جریدے کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام کی بیٹریوں نے اس کا "اسکائی لارک" ماڈل کا ایک جاسوس ڈرون طیارہ مار گرایا۔

جریدے کا کہنا ہے کہ آئرن ڈوم کو بنیادی طور پر راکٹ اور میزائل حملوں کے خلاف دفاع کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا تاہم ثانوی طور پر یہ نزدیکی دائرہ کار میں موجود طیاروں کے خلاف کارروائی کی بھی محدود صلاحیت رکھتا ہے۔

جریدے کے مطابق "اسکائی لارک" طیارے کی لاگت کم ہونے کے باوجود اس کا گرایا جانا اسرائیلی ذمے داران کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔ آئرن ڈوم نظام کی جانب سے گرائے جانے والے اس نوعیت کے ڈرون طیاروں کی تعداد ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام عملی طور پر 2010ء میں استعمال میں آنا شروع ہوا۔

جدید ترین دفاعی نظام سے متعلق "رافائیل کمپنی" نے اسرائیلی فوج کے تعاون سے 2007ء میں اس آئرن ڈوم کی تیاری کا آغاز کیا تھا۔ اس پر 21 کروڑ ڈالر لاگت آئی تھی۔

یہ دفاعی نظام ایک ریڈار مشین، ٹریکنگ سسٹم اور 20 میزائلوں کی حامل ایک بیٹری پر مشتمل ہوتا ہے۔