.

اسرائیل کشیدگی کو بڑھاوادینے والے اقدامات سے بازرہے:مصری وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیرخارجہ سامح شکری نے اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات میں کہا ہے کہ اسرائیل کو ایسے تمام اقدامات سے گریز کرناچاہیے جن سے بالخصوص فلسطینی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہو۔

سامح شکری سے اتوار کو قاہرہ میں اسرائیلی وزیرخارجہ گابی اشکنازی نے ملاقات کی ہے اور ان سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اس فلسطینی علاقے کی تعمیر نو سے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس ملاقات کے بعد مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’سامح شکری نے گابی اشکنازی پر واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس ،الاقصیٰ مسجد اور تمام اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔‘‘

قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2008ء کے بعد کسی اسرائیلی وزیرخارجہ کا مصر کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیرخارجہ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا:’’ہم حماس کے ساتھ مستقل جنگ بندی ،غزہ میں انسانی امداد بہم پہنچانے اور تعمیرِنو کے لیے میکانزم کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے والے ہیں۔غزہ کی تعمیرنو میں بین الاقوامی برادری کا اہم کردار ہوگا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ان کی حکومت حماس کے زیرِحراست اسرائیلیوں کی واپسی کے لیے مکمل طور پرپُرعزم ہے۔‘‘

مصرکی ثالثی میں اسرائیل اور حماس سمیت فلسطینی تنظیموں کے درمیان21 مئی کو غزہ میں جنگ بندی ہوئی تھی۔اسرائیل کے غزہ پر گیارہ روزہ تباہ کن حملوں میں 254 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ان میں 66 کم سن بچے بھی شامل تھے۔اسرائیلی علاقوں پر حماس اور دوسری فلسطینی تنظیموں کے راکٹ حملوں میں 12 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

حماس کے پاس اس وقت 2014ء کی جنگ میں کام آنے والے دواسرائیلی فوجیوں کی باقیات ہیں۔اس کے علاوہ اس نے دواسرائیلی شہریوں کو بھی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ان دونوں کو غزہ میں داخلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ادھرمقبوضہ بیت المقدس میں مصر کی جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے مصری انٹیلی جنس چیف سے ملاقات میں دواسرائیلی فوجیوں کی باقیات اور دو شہریوں کی واپسی کا مسئلہ اٹھایا ہے۔اس کے علاوہ ان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ حماس کو مضبوط ہونے سے روکا جائے۔نیزشہری آبادی کے لیے وسائل اس کے ہاتھ نہیں لگنے چاہییں۔

عباس کامل نے غربِ اردن کے شہر رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی ہے۔ ایک فلسطینی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ ان کی بات چیت میں غزہ کی تعمیرنو میں فلسطینی اتھارٹی کا کردار مرکزی موضوع تھا۔مصر تعمیرنو کی سرگرمیوں میں اس کوبھرپور طور پر شریک کرنا چاہتا ہے۔

مصری انٹیلی جنس چیف اسرائیلی وزیراعظم اور فلسطینی صدر سے الگ الگ بات چیت کے بعد حماس کی قیادت سے ملاقات کے لیے غزہ جانے والے تھے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے عباس کامل کو غزہ کی حکمراں حماس اور غربِ اردن میں صدر محمودعباس کے زیرقیادت جماعت فتح کے درمیان اختلافات کے خاتمے کی بھی ہدایت کی ہے۔واضح رہے کہ مصری صدر نے غزہ کی تعمیرنو کے لیے 50 کروڑ ڈالرکی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

مصر کے سینیرسکیورٹی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حماس کے لیڈراسماعیل ہنیّہ بھی اتوار کو قاہرہ پہنچنے والے تھے۔لیکن انھوں نے ان کی ملاقاتوں کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔