.

سعودی نوجوان نے اتفاقا ہاتھ لگنے والا قیمتی عقاب کیوں آزاد کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک نوجوان نے ایک قیمتی عقاب کو گھر میں کچھ وقت رکھ کر اس کی خدمت کی جس کے بعد اسے چھوڑ ڈیا۔

ایک مقامی نوجوان "نائف بن شویہ" نے بتایا کہ اسے ایک بھورے رنگ کا ایسا شاہین ملا جس کی نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ جب اسے یہ قیمتی اور نایاب پرندہ تو وہ اسوقت بھوک اور پیاس سے نڈھال تھا۔ وہ اسے اپنے گھر لے آیا جہاں اس گوشت کھلایا اور پانی پلایا۔

سعودی عرب کے نیشنل سینٹر برائے وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ نےاپنے آفیشل "ٹویٹر" اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا شہری نایف بن شویہ سینٹر سے رابطہ کیا اور اس نے بتایا کہ اس نے ایک مہاجر عقاب کو پکڑا ہے جسے وہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کےحوالے کرنا چاہتا ہے۔ وائلڈ لائف مرکز نے اس کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئےنایف بن شویہ نے کہا کہ مجھے الصمان کے مقام سے یہ عقاب ملا۔ وہ گرمی اور بھوک کی شدت کی وجہ سے پرواز نہیں کرسکتا تھا۔ لہذا وہ اسے اپنے ساتھ لے لیا۔ گھر میں لے جا کر اسے کھلایا پلایا۔ پھر میں نے نیشنل سینٹر برائے وائلڈ لائف سے رابطہ کیا ، اور اگلے ہی دن عقاب متحرک ہوگیا۔ اب وہ بہ حفاظت اڑان کے قابل ہوچکا تھا۔ اس کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔

بھورا عقاب کیا ہے؟
خیال رہے کہ بھورے رنگ کے نایاب عقاب کو سیاہ عقاب، الراھب، سیاہ اوراسی عقاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شاہین کی قدیم ترین نسلوں میں شامل ہے۔ بھورا شاہین سیاہ شاہین سے مختلف ہوتا ہے۔ کالے رنگ کا عقاب نئی نسل ہے جب کہ بھورا عقاب پرانی نسل کا ہے مگر نام اور شکل میں دونوں ایک جیسے ہیں۔

بھورا عقاب اسپین، پرتگال، جنوبی فرانس، یونان، ترکی، مشرق وسطی، پاکستان، شمالی بھارت، شمالی چین، منگولیا، وسطی ایشیا اور کوریا کے علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔