.

اسرائیل کی بمباری سے متاثرہ کم سن فلسطینی بچّوں کے کمرے کیا منظرپیش کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ گیارہ روزہ تباہ کن جنگ کا تو خاتمہ ہوچکا ہے لیکن اس کی تباہ کاریوں کے اثرات فلسطینی بچّوں کے ذہنوں سے تادیر محو نہیں ہوں گے۔اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے غزہ کی پٹی میں بلاامتیاز حملوں میں سیکڑوں مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ان حملوں سے جہاں خاندانوں کے خاندان بے گھر ہوئے ہیں،تووہیں کم سن فلسطینی بچّے بھی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

ان ہی میں سے دو کم سن بہنیں 9سالہ شروق المصری اور 4 سالہ رازن بھی شامل ہیں۔ان کا سونے کا کمرا تباہی کا عجیب منظرپیش کررہا ہے۔کمرے میں پڑے ان کے کھلونے گرد سے اٹ چکے ہیں۔بمباری سے چھت ٹیڑھی میڑھی اوربدشکل ہوچکی ہے۔کمرے کی دیواروں میں دراڑیں آچکی ہیں اور وہ ان پر بنے کارٹوں میں سے آڑھی ترچھی نکل رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ان دونوں بچّیوں کے مکان سے متصل عمارت پر19 مئی کی صبح کو فضائی حملہ کیا تھا جس سے یہ عمارت تباہ ہوگئی تھی اوران کے مکان کو شدید نقصان پہنچا تھا۔اس حملے کے دوروز بعد 21 مئی کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔

9 سالہ شروق المصری اور ان کی چھوٹی بہن 4 سالہ رازن۔
9 سالہ شروق المصری اور ان کی چھوٹی بہن 4 سالہ رازن۔

2007ء کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں یہ چوتھی جنگ لڑی گئی ہے۔اس گیارہ روزہ جنگ کے دوران میں اسرائیلی فوج ماضی کی روایت کے مطابق علی الصباح غزہ شہر اور دوسرے قصبوں پر تباہ کن فضائی حملے کرتی رہی ہے۔ان حملوں میں 250 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ان میں 66 کم سن فلسطینی بچّے شامل تھے۔ان کے علاوہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

غزہ سے حماس اور دوسری فلسطینی تنظیمیں اسرائیلی علاقوں کی جانب راکٹ داغتی رہی ہیں جن سے ایک کم سن بچّے سمیت 12 اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

انس الحاج اپنے کمرے میں۔
انس الحاج اپنے کمرے میں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوب میں واقع مغازی کیمپ کو بھی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔اس کے ایک حملے میں چار سالہ انس الحاج احمد کے بیڈروم کی چھت اڑ گئی تھی لیکن اس بمباری میں وہ اور ان کی بہن محفوظ رہے تھے۔

انس کی طرح بہت سے بچے 2014ء کی جنگ کے بعد پیداہوئے ہیں۔ان کے لیے جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا اور انھوں نے اسرائیلی بمباری کی تباہ کاریوں کو پہلی مرتبہ ملاحظہ کیا ہے۔البتہ اب بالغ ہوجانے والے بچّے سابقہ جنگ کی تباہ کاریوں کا احوال بھی دکھ بھرے انداز میں بیان کرتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس مرتبہ فلسطینیوں پرایک ستم ظریفانہ یہ احسان کیا تھا کہ وہ کثیرمنزلہ عمارتوں کے مکینوں کو حملوں سے قبل خالی کرنے کا کہہ دیتی تھی۔ان ہی میں سے ایک عمارت میں 14 سالہ محمودالمصری اپنے چھے بھائیوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔صبح تین بجے ان کے خاندان نے اسرائیلی فوج کے انتباہ کے بعد عمارت کو خالی کردیا لیکن دوسرے روز وہ اس عمارت میں واپس جانے سے گھبرا رہا تھا اور انھیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ واپسی کی صورت میں ان پر کوئی ڈرون یا میزائل حملہ ہوسکتا ہے۔

فریقین کے درمیان اب عارضی جنگ بندی پر عمل کیا جارہا ہے۔مصر اسرائیل اور حماس سے اس جنگ بندی کو مستقل اور دیرپا بنانے کے لیے بات چیت کررہا ہے لیکن غزہ کے بہت سے مکینوں کو اس بات کا یقین دلانا مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی اور جنگ نہیں چھڑے گی اور اسرائیل ان کے محصور علاقے کو ایک مرتبہ پھر اپنے تباہ کن حملوں میں نشانہ نہیں بنائے گا۔

اس وقت غزہ کے تباہ حال مکینوں کو تعمیرنوکا مشکل مرحلہ درپیش ہے۔اسرائیل اور مصر نے 2007ء میں حماس کے غزہ کی پٹی پر کنٹرول کے بعد سے اس کی ناکابندی کررکھی ہے۔اس کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی اس کھلی جیل کے مکین گوناگوں معاشی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔اب جنگ کی تباہ کاریوں نے ان کی مشکلات کو دوچند کردیا ہے۔غزہ کی پٹی میں میں بے روزگاری کی شرح 50 فی صد کے لگ بھگ ہوچکی ہے۔

اسرائیل غزہ کی برّی ، بحری اور فضائی ناکابندی کا یہ جواز پیش کرتا ہے کہ اس کی سلامتی اور حماس کو دوبارہ مسلح ہونے سے روکنے کے لیے یہ اقدام ناگزیرہے جبکہ فلسطینیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بھی اجتماعی سزا کی ایک شکل ہے اور اس کے ذریعے فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی جارہی ہے اور انھیں بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رکھا جارہا ہے۔