.

ناگہانی موت سے دوچار ہونے والے سعودی طالب علم کی دکھی ماں کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ناقابل بیان دکھ اور درد بھری آواز میں ناگہانی موت سے دوچار ہو نے والے سعودی طالب علم عبدالرحمان الحمدان کی ماں نےاپنے لخت جگر کی جدائی پر اپنے تاثرات بیان کیے ہیں۔

خیال رہے کہ عبدالرحمان الحمدان امریکا میں زیرتعلیم تھا۔ یونیورسٹی میں تعلیم سے فراغت سے صرف تین ماہ قبل اسے اچانک اس کے گھر میں مردہ پایا گیا جس پر پورا خاندان شدید صدمے کا شکار ہوا ہے۔ امریکی یونیورسٹی کی طرف سے حمدان کو اس کی وفات کےبعد گریجوایشن کی ڈگری جاری کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے عبدالرحمان الحمدان کی والدہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کو امریکا کی نیویارک یونیورسٹی سے ایک کال موصول ہوئی۔ الحمدان اسی یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا۔ یونیورسٹی نے حمدان کی ناگہانی موت پرخاندان سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا اور ساتھ ہی کہا کہ یونیورسٹی الحمدان کو گریجوایشن کی ڈگری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حمدان کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز میں کمپیوٹر سائنس کا طالب علم تھا اور تین ماہ بعد اسے ڈگری جاری ہونا تھی۔

آخری شب

عبدالرحمان الحمدان زندگی سے محبت کرنے والا اور پیوستہ امید نوجوان تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے حسن اخلاق سے دوسروں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنے افکار وخیالات سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتا۔ اس کی ماں نے بتایا کہ عبدالرحمان الحمدان نے زندگی کے آخری روز اپنے والد کے دوستوں کےلیے بریانی تیار کی۔ اسے ککنگ کا بھی شوق تھا اور وہ کئی قسم کے کھانے بنا لیتا تھا۔ اس نے رات کا کھانا سب کے ساتھ کھایا۔ اسے بھارتی پکوان بے حد پسند تھے اور وہ انہیں خود تیار کرنے کا بھی ماہر تھا۔ وہ ہر ہفتے ایک بار ضرور اپنے ہاتھ سے اہل خانہ کے لیے کھانا تیار کرتا۔

بیٹے کی جدائی کے دکھ کا شکار ہونے والی خاتون نے بتایا کہ آخری رات کو حمدان اپنے دوستوں سے ملنے گیا۔ جب واپس آیا تو اس نے میری پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس کے بععد کہنے لگا کہ وہ ایک ٹی وی شو دیکھ کر پھر سب کے ساتھ بیٹھے گا۔ یہ کہہ کر و ہ اپنے کمرے میں چلا گیا اور کمرے کو اندر سے بند کردیا۔ اس کے کافی دیر غائب رہنے کی وجہ سے کمرے میں معلوم کیا گیا تو دیکھا وہ ہمیشہ کےلیے سب سے جدا ہوچکا تھا۔