.

اسرائیلی فوج نے گولان کی چوٹیوں پرشام کی نگران فوجی چوکی تباہ کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں پرواقع شام کی ایک نگران فوجی چوکی کو تباہ کردیا ہے۔اسرائیلی فوج کی اس سال کے دوران میں اس علاقے میں اس طرح کی یہ تیسری کارروائی کی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویشے ادراعی نے ٹویٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ ’’فوج نے شامی فوج کی اگلے محاذ پرقائم ایک نگران چوکی تباہ کردی ہے۔یہ گولان کی چوٹیوں پر الفا لکیر سے مغرب میں اسرائیلی علاقے میں قائم کی گئی تھی۔‘‘

وہ دونوں ملکوں کے درمیان حدفاصل کا حوالہ دے رہے تھے۔اس بفرزون میں اقوام متحدہ کے امن دستے گشت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اس چوکی کو حملہ کرکے اڑا دیا ہے۔

انھوں نے مزید دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ ’’اسرائیل کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی کسی کوشش سے کوئی رورعایت نہیں برتی جائے گی۔‘‘فوری طورپر اسرائیلی فوج کے اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے شام میں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ، ایرانی فورسز اور ایران نواز ملیشیاؤں کے کمانڈروں یا ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس نے ان تمام حملوں کی کبھی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صرف 2020ء میں شام میں 50 اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔اسرائیل کا یہ مؤقف ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں دشمن ملک ایران کو قدم جمانے نہیں دینا چاہتا اور اسی لیے شام میں اس کے اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مئی میں شام کے سرکاری میڈیا نے اسرائیل کے ساتھ واقع جنوبی صوبہ القنیطرہ میں صہیونی فوج کے فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران میں شام کے علاقے گولان کی چوٹیوں پر قبضہ کرلیا تھا اوردسمبر1981ء میں فوجی اہمیت کے حامل اس مقبوضہ علاقے کو یک طرفہ طور پرصہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن امریکا کے سوا عالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔