.

اخوان کی اسرائیلی حکمراں اتحاد میں شمولیت، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی رابطوں کی سائٹس پر کارکنوں نے ایک ایسی تصویر جاری کی ہے جو تیزی سے وائرل ہونے کے ساتھ اسرائیل کی غیر معمولی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

عرب دنیا کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کا شمار اسرائیل کے سخت ترین مخالفین میں ہوتا ہے مگر آج اخوان کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔ اخوان المسلمون نے اسرائیل کی نئی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کر کے عملاً اسرائیل کو ایک ’آئینی ریاست‘ تسلیم کر لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر میں اسرائیل کے زیر انتظام علاقوں میں بسنے والے عرب شہریوں کی اسرائیلی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والے عرب اتحاد کے سربراہ منصور عباس اخوان المسلمون سے منسلک ہیں۔

دو روز قبل اسرائیل میں دائیں بازو کے نفتالی بینیٹ اور اعتدال پسند لیڈر یائر لیپد نے ملک میں ایک نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اتحاد کا اعلان کیا۔ اسرائیل کے اس مخلوط حکومتی اتحاد میں کم وبیش سات جماعتیں شامل ہیں جن میں اخوان رہ نما منصور عباس کے زیر قیادت عرب اتحاد بھی شامل ہے۔

انہوں نے 12 سال سے اقتدار پر قابض بنیامین نیتن یاھو کو وزار عظمیٰ کی کرسی سے اتار دیا ہے۔ اخوان المسلمون کی فکر اور اس کے فلسفے سے متاثر منصور عباس کا اسرائیل میں حکومت میں شامل ہونا حیران کن ہے اور اس پر نہ صرف اسرائیل بلکہ عرب ملکوں کے ذرائع ابلاغ میں بھی کافی لے دے ہو رہی ہے۔

وائرل ہونے والی تصویر میں یائر لیپد، منصور عباس اور شدت پسند لیڈر نفتالی بینیٹ کو خوش گوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ اخوان نے سیاسی مخالفین پر غداری اور دشمن کے ایجنٹ کے الزامات کی روایت پر عمل کیا مگر یہاں اخوان کے اپنے طرز عمل میں کھلا تضاد پایا جاتا ہے۔