.
شرق اوسط

اسرائیل: مخلوط حکومت کی تشکیل سے نئے تاریخی ریکارڈ بنیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آئندہ دنوں میں اسرائیلی پارلیمنٹ میں نئی حکومتی تشکیل کی منظوری کی صورت میں توقع ہے کہ یہ کئی پہلوؤں سے اپنی نوعیت کی پہلی حکومت ہو گی۔ یہ اسرائیل کی سیاسی تاریخ کے متعدد سابقہ ریکارڈوں کو پاش پاش کر ڈالے گی۔

اسرائیلی اخبار Times of Israel کے مطابق "یمینا" پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ کے "يش عتيد" پارٹی کے سربراہ یائر لیپڈ کے ساتھ باری باری وزیر اعظم کے طور پر تقررکے نتیجے میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ اسرائیل روایتی مذہبی ٹوپی "کیپا" پہننے والی کسی شخصیت کے زیر قیادت ہو گا۔ اسی طرح نفتالی بینیٹ سب سے چھوٹی جماعت سے وزیر اعظم بننے والی شخصیت ہوں گے۔ پارلیمنٹ میں ان کی جماعت "یمینا" کے صرف 7 ارکان ہیں۔مزید یہ کہ 49 سالہ بینیٹ ،،، بنیامین نیتن یاہو کے بعد اسرائیل کی تاریخ کے دوسرے کم عمر ترین وزیر اعظم ہوں گے۔ نیتن یاہو نے 1996ء میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالا تو ان کی عمر 46 برس تھی۔

اگ آئندہ دنوں کے دوران میں نئی حکومت نے حلف اٹھا لیا تو یہ اسرائیل میں پہلی حکومت ہو گی جس میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے والی شخصیت (نفتالی بینیٹ) اس شخصیت (یائر لیپڈ) سے مختلف ہو گی جس کو واقعتا حکومتی تشکیل کی دعوت دی گئی۔ نمبر وار منصب سنبھالنے کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے لیپڈ ستمبر 2023ء میں وزیر اعظم بنیں گے۔

غالب گمان ہے کہ نئی کابینہ میں 8 خواتین شامل ہوں گی جو ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔

نفتالی اور منصور عباس
نفتالی اور منصور عباس

حکومتی اتحاد میں پارلیمنٹ کے 8 عرب ارکان بھی شامل ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی عرب جماعت اسرائیل کی حکومتی تشکیل میں "بادشاہ گر‘‘ کا مرکزی کردار ادا کرے گی۔

نئے حکومتی اتحاد میں 8 جماعتیں شامل ہوں گی جو کہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ ان میں 4 جماعتیں پہلی مرتبہ حکومتی اتحاد میں شریک ہیں۔

نئے اتحاد میں شامل 8 جماعتوں میں سے 5 کے سربراہان ماضی میں نیتن یاہو کی حکومتوں میں وزراء کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

اگرچہ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ نیا حکومتی اتحاد دراصل "بائیں بازو کی حکومت" ہے جو اسرائیل کی سلامتی اور ریاست کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے ،،، تاہم اعلی اخیتاراتی سیکورٹی کونسل (کچن کابینہ) میں دائیں بازو کی اکثریت واضح ہے۔