.

اسرائیل کی تعریف پردھمکیاں؛اُنروا نے غزہ سے اپنا ڈائریکٹر واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی فلسطینی مہاجرین کے لیے امدادی ایجنسی اُنروا نے غزہ میں تعینات اپنے ڈائریکٹر کو اسرائیل کے حالیہ حملوں کی تحسین پر ملنے والی دھمکیوں کے بعد واپس بلا لیا ہے۔اُنروا کے ڈائریکٹرمتھیاس شمیل نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں گذشتہ ماہ اپنے اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا تھا۔

ان کے اس بیان کے خلاف گذشتہ سوموار کو غزہ میں اُنروا کے صدردفاتر کے سامنے فلسطینیوں نے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔اُنروا کا کہناہے کہ اس کے ڈائریکٹر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔اس پر اسے گہری تشویش لاحق ہے۔

ایجنسی نے ہفتے کے روز بیان میں کہا ہے کہ ’’اس نے متھیاس شمیل اور ان کے نائب کو مشاورت کے لیے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع اپنے صدر دفاترمیں طلب کر لیا ہے۔‘‘

اس نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’فلسطینی دھڑوں‘‘ نے شمیل اور ان کے نائب کو غزہ میں ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے لیکن اس کو اس ضمن میں کوئی باقاعدہ نوٹی فیکیشن موصول نہیں ہوا ہے۔

مسٹر شمیل سے گذشتہ ماہ اسرائیل کے چینل12 ٹی وی سے ایک انٹرویو میں اسرائیلی حکام کے اس دعوے سے متعلق سوال پوچھاگیاتھا کہ غزہ میں 11 روزہ جنگ کے دوران میں اہداف کو’’ٹھیک ٹھیک نشانہ‘‘بنایا گیا ہے۔اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’میں کوئی عسکری ماہر تو نہیں لیکن میں اس بیانیے سے اختلاف نہیں کروں گا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اہداف کو نشانہ بناتے وقت’’انتہائی احتیاط اور چابک دستی‘‘کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل کے یہ حملے 2014ء کے مقابلے میں زیادہ خطرناک تھے۔

شمیل نے بعد میں اپنے اس بیان پرمعذرت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ کسی بھی شہری کی موت بالکل ناقابل قبول ہے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ’’براہِ راست حملوں میں بہت سے لوگ مارے گئے ہیں یا شدید زخمی ہوگئے ہیں یا حملوں میں وہ ضمنی نقصان کا سبب بنے ہیں۔غزہ ایسے گنجان آباد علاقے میں کسی بھی حملے کے عوام اور عمارتوں پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘‘

ان کے مذکورہ انٹرویو کے مندرجات کی اسرائیلی میڈیا میں خوب تشہیر کی گئی ہےاور اسرائیل کے حامیوں نے اس کو غزہ جنگ کی توثیق قراردیا ہے جبکہ فلسطینیوں نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ اُنروا مقبوضہ غربِ اردن ، غزہ ، اردن ، لبنان اور شام میں مقیم 57 لاکھ فلسطینی مہاجرین کو تعلیم اور خوراک سمیت ضروری خدمات مہیا کرتی ہے۔ان میں 1948ء کی جنگ میں فلسطینی علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینی اور ان کی اولادیں شامل ہیں۔

گذشتہ ماہ میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں غزہ ،غربِ اردن اور مقبوضہ مشرقی القدس میں 270 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ان میں 68 کم سن بچّے بھی شامل تھے۔غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے 11 روزہ تباہ کن فضائی حملوں میں 257فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ حماس کے راکٹ حملوں میں 12 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ لاکھ مکین پینے کے صاف پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کی تباہ کن بمباری سے فلسطینی علاقے کا آب رسانی کا 50 فی صد نظام ناکارہ ہوچکا ہے۔نیز17 ہزار مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ان میں سے 769 مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور وہ بالکل استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔258 عمارتوں میں 1042 یونٹس تباہ ہوئے ہیں اور 14538 مکانوں یا تجارتی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔غزہ شہر اور دوسرے شہری علاقوں بمباری سے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ گئی ہے۔نیز شہر کے برقی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔