.

ایران یمن میں حوثیوں کے گرمائی تربیتی کیمپوں کی نگرانی کررہا ہے: الاریانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات و نشریات معمر الاریانی نے کہا ہے کہ ایران کی فیلق القدس کے ایک افسر حسن ایرلو ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے موسم گرما کے دوران لگائے گئےکیمپوں کے نتائج کی نگرانی کررہا ہے۔ان تربیتی کیمپوں میں صنعا اور یمن کے حوثیوں کے زیرتسلط علاقوں سے ہزاروں بچوں کو لایاگیا ہے تاکہ ان کے ذہنوں میں ایران کی حمایت راسخ کی جا سکے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹویٹر‘ پر اپنی متعدد ٹویٹس میں الاریانی نے کہا کہ حوثی ملیشیا ایران کی نگرانی میں ہزاروں بچوں کو موسم گرما کے کیمپوں میں لا کران کی مخصوص انداز میں برین واشنگ کررہی ہے۔ ان کیمپوں نے انہیں موت سے نہ ڈرنے، نفرت پر اکسانے کی کوششوں کے ساتھ انہیں فرقہ وارانہ، دہشت گردانہ اور ایران کے انقلاب کو وسعت دینے اور خطے میں ایران کے مذموم عزائم کی تکمیل میں انہیں ایندھن کے طور پراستعمال کرنے ٹریننگ دی جاتی ہے۔

صنعا میں منعقد ہونے والے ایک ایسے ہی نام نہاد تربیتی کیمپ کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات نے شہریوں پرزور دیا ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ساتھ تعاون کا بائیکاٹ کریں اور اپنے بچوں کو حوثیوں کے قائم کردہ کیمپوں میں نہ بھیجیں۔ ان کاکہنا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا اصل مقصد یمن کو خطرناک فرقہ وارانہ دل دل میں دھکیلنا اور یمن کے انسانوں، زمین، تشخص، اس کے حال اور مستقبل کو ایران کے فرقہ وارانہ نظام سے تباہ کرنا ہے۔

معمر الاریانی کاکہنا تھا کہ حوثی ملیشیا خطے میں ایران کے ایجنٹوں میں سے ایک ہے جو یمن میں فرقہ واریت، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو عام کرنے اور یمنی عوام کو ایران کا غلام بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔