.

ترکی کےشمالی عراق میں کرد مہاجرین کے کیمپ پرفضائی حملے میں تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک فوج کے شمالی عراق میں مہاجرین کے ایک کیمپ پر فضائی حملے میں تین افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پیٹریاٹک یونین آف کردستان پارٹی کے ایک عہدہ دارراشد کیلانی نے بتایا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے کیمپ میں ہزاروں ترک کرد مہاجرین رہ رہے ہیں۔اس حملے سے تین روز قبل ہی ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عراق کو خبردار کیا تھاکہ اس کی حدود میں واقع اس مہاجرکیمپ کو ’’صاف‘‘ کردیا جائےگا کیونکہ ان کے بہ قول کردجنگجو اس کیمپ کو ایک پناہ گاہ کے طور پراستعمال کررہے ہیں۔

عراق کے ایک سکیورٹی افسر نے ترکی کے اس فضائی حملے اور اس میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی کی مسلح افواج نے شمالی عراق میں کالعدم کردستان ورکرزپارٹی(پی کے کے) کے ٹھکانوں پرگذشتہ سال سے زمینی اور فضائی حملے تیز کررکھے ہیں۔ترک فوج فضائی حملوں کے علاوہ عراق کے اندر 30 کلومیٹر کی پٹی میں بھی کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

ترکی کی سرحد سے جنوب میں 180کلومیٹر دورشمالی عراق میں واقع علاقے مخمور میں قائم کیمپ میں گذشتہ دوعشروں سے ہزاروں ترک مہاجرین رہ رہے ہیں۔صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ کردجنگجوؤں کی پرورش گاہ کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ کیمپ 1990ء کے عشرے میں قائم کیا گیا تھا اور ترکی کے جنوب مشرقی علاقے سے ہزاروں کرد نقل مکانی کرکے اس کیمپ میں جابسے تھے۔ترک حکومت نے پی کے کے پر ان ہزاروں کردوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

دریں اثناء ہفتے کے روز شمالی عراق ہی میں پی کے کے ایک حملے میں عراقی کرد پیش مرگاملیشیا کے پانچ جنگجو ہلاک اور چارزخمی ہوگئے ہیں۔خودمختارشمالی کردستان کی اس نیم سرکاری ملیشیا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی کے کے کے جنگجوؤں نے قصبہ آمدی میں پیش مرگا پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد ان کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔تاہم پی کے کے نے اس حملے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔