.

سعودی عرب میں آوارہ کتوں کے ہاتھوں بچوں کی بڑھتی اموات کا تدارک کیسے ممکن ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں آوارہ کتوں کے حملوں میں بچوں کی اموات کے بڑھتے واقعات کے بعد جہاں عوام میں آوارہ کتوں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں حیوانات کے حقوق کے لیے کام کرنےوالی تنظیمیں بھی آوارہ کتوں سے نجات کے مختلف قانونی طریقے اپنانے کی حمایت کر رہی ہے۔

سعودی عرب میں کتوں کے حملوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران کئی بچوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اس نوعیت کا تازہ واقعہ حال ہی میں مشرقی علاقے الاحسا میں پیش آیا جہاں کتوں کے حملے میں ایک تیرہ سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔

حیوانات کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین آوارہ کتوں کی ’دہشت گردی‘ کا حل بتاتے ہیں۔

مملکت میں حیوانات کے حقوق کےلیے کام کرنے والی تنظیم ’رحمہ‘ کے ترجمان حمزہ الغامدی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے آوارہ کتوں کےحملے میں الاحسا میں ایک بچے کی موت پر گہرےدکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق بچے کے لواحقین س دلی ہمدردی کے ساتھ اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔

بلدیہ کی ناکافی کوششیں

حمزہ الغامدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شہروں کی انتظامیہ آوارہ کتوں سے نجات کے لیے انہیں زہر دے کر ہلاک کرنے یا انہیں دور دراز علاقوں میں پھینکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ الاحسا میں بچے کی آوارہ کتوں کے حملے میں موت کا واقعہ العقیر کے ساحل پر پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ساحلی علاقوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ سیاح اور دوسرے لوگ وہاں پر کھانے کی اشیا پھینک دیتے ہیں اور آوارہ کتے کھانے کی اشیا کی تلاش میں پھرتے رہتےہیں۔

ایک سوال کے جواب میں الغامدی نےکہا کہ بلدیہ کی انتظامیہ کی ناکافی کوششیں بھی کتوں کے ہاتھوں بچوں کی اموات کا سبب بن رہی ہیں۔ دنیا میں آوارہ کتوں کو بےضرربنانے کے لیے ان کی نس بندی کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد آوارہ کتوں کی افزائش نسل کو روکنا ہوتا ہے۔ یہ نظام پوری دنیا میں رائج ہے۔ اس سے جانور خطرناک نہیں رہتا اور اس کی نسل بھی مزید نہیں پھیلتی۔

آوارہ کتوں سے نجات پانے کامثالی حل بیان کرتے ہوئے حمزہ الغامدی نے کہا کہ عالمی سطح پر مشہور نس بندی کا طریقہ ہی اس کا مناسب اور بہتر حل ہے اور دنیا کے کئی ممالک اس پرعمل درآمد کرکے آوارہ کتوں سے نجات پانے میں کامیاب رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف شہریوں کی انتظامیہ اور سیکرٹریٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آوارہ کتوں کے لیے عارجی پناہ گائیں بنائیں، ویٹرنری ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کریں تاکہ آوارہ کتوں کی نس بندی کی جاسکے۔

کتوں کو زہر دینے کا عمل

سعودی عرب میں حیوانات کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حمزہ الغامدی نے کہا کہ آوارہ کتوں کو زہردینے سے ان کے خطرات کم نہیں ہوسکتے بلکہ ایسے کتوں سے نجات کے لیے نس بندی بہترین طریقہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری آبادیوں اور پبلک مقامات پر کھانے پینے کی اشیا پھینکنےسے گریز کیا جائے۔ سیر گاہوں، ساحلی علاقوں اور پبلک آمد ورفت کے مقامات کو کھانے کی باقیات نہ پھینکی جائیں۔ نیز ایسے مقامات پر بچوں کواکیلا نہ چھوڑا جائے۔