.

کیا غزہ کی پٹی کی تعمیرنومیں ’حماس‘ رکاوٹ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ساتھ بار بار ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے اس وقت "حماس" تحریک کو سخت سیاسی اور معاشی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری مسلسل محاذ آرائی اور اس حوالے سے حماس کو درپیش مشکلا غزہ کی پٹی میں ترقیاتی عمل میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ غزہ میں بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی آبادی جو حماس یا عالمی امداد پر گذر بسر کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعدادو شمار کے مطابق غزہ کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پرمجبور ہیں۔

تعمیر نو میں رکاوٹ

اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کا اصرار ہے کہ غزہ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش میں غزہ کی حکمراں حماس کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ امریکا اور اقوام متحدہ دونوں نے حماس کودہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

امریکا ، مصر اور قطر نے بڑی حد تک اقوام متحدہ کے اداروں کے توسط سے فلسطینیوں کو ایک بلین ڈالر سے زیادہ کی فراہمی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے پریس کانفرنسوں میں غزہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ یحییٰ السنوار نے کہا تھا کہ ان کی جماعت انسانی ضرورتوں کے لیے مختص رقم کو نہیں جماعتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے غزہ کی پٹی پرعاید پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی ناکہ بندی اس کی معیشت کو کمزور کردیا ہے۔

یحیحیٰ السنوار
یحیحیٰ السنوار

تہران سے مالی اعانت اور ٹیکس

السنوار نے مزید کہا کہ "حماس" کے پاس فنڈ جمع کرنے کے اور بھی ذرائع ہیں۔ حماس فورسز کو ایران کی مالی اعانت ملتی ہے جبکہ حماس پولیس اور دیگر سرکاری ادارں کے لیے غزہ میں شہریوں اور کاروباری اداروں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

طویل مدتی جنگ

حالیہ دنوں میں مصری عہدے داروں نے غزہ اور اسرائیل کے دورے کیے ہیں۔ ان دوروں کا مقصد تعمیر نو کا منصوبہ مرتب کرنا ہے اور اس پر تبادلہ خیال کرنا ہے کہ طویل مدتی صلح تک کیسے پہنچنا ہے؟۔

اسرائیلی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے کوئی معاہدہ تب ہی ہوسکتا ہے جب حماس اسرائیلی قیدیوں کو رہا اور سنہ 2014 میں حماس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی لاشیں واپس کردے جب کہ حماس کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات سے انسانی امداد اور تعمیر نو کو متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔

غزہ میں فلسطینیوں نے حالیہ لڑائی دوران تباہ ہونے والی عمارتوں کےملبے اور کھنڈرات کو ختم کرنے کے بارے میں حماس رہ نما نے خبردار کیا کہ اگر مسجد اقصی میں اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپ جاری رکھے گی تو وہ مزید لڑائی کی وارننگ دیتے ہیں۔

السنوار نے اپنی پریس کانفرنس میں کہاکہ دشمن کو یہ جان لینا چاہیئے کہ اب تک جو کچھ ہوا ہےیہ ایک چھوٹی سی مشق تھی۔

غزہ کے خلاف حالیہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں مکانات اور کاروباری مراکز تباہ ہوئے اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔ انسانی امور سے متعلق کوآرڈینیشن کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق اسرائیلی فوج کے حملوں میں 11 دنوں میں 12 اسرائیلی ہلاک اور 242 فلسطینی شہید ہوئے۔

عام آدمی کی مایوسی

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے عام آدمی مایوسی کا شکار ہیں۔44 سالہ یحییٰ سامی نے کہا کہ وہ حماس اور اسرائیل کی لڑائی کی وجہ سے بہت پریشان ہیں اور اب کینیڈا منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ سامی الوحدہ کالونی میں رہائش پذیر ہیں جہاں پر اسرائیلی بمباری سے بیشتر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اوردرجنوں فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ سامی نے حماس رہ نما السنوار کو موجودہ صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

السنوار کی عملیت پسندی

امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں السنوار کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ السنوار نے حماس کے سیکیورٹی اپریٹس کو قائم کرنے میں مدد کی۔ اسرائیلی فوجیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 1988 میں چاربار عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسرائیل جیل خانہ جات کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق السنوار نے اپنی کئی سال کی حراست کے دوران اسرائیلیوں سے باتیں کرکے روانی سے عبرانی سیکھنے میں کامیابی حاصل کی۔

السنوار کو سنہ 2011 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیط کی رہائی کے بدلے میں رہا کیا گیا۔ اس ڈیل میں کل 1،027 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا۔سنہ 2017 میں تحریک کے پولیٹیکل بیورو کی صدارت سنبھالی۔