.

الاخوانی رہ نما نئی اسرائیلی حکومت میں شرکت کے سمجھوتے پر دستخط کے بعد مُصلّے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا کے صارفین نے اسرائیل میں اسلامک موومنٹ کے سربراہ منصور عباس کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک تصویر کو وائرل کیا ہے۔ تصویر میں منصور اسرائیل میں نئے حکومتی اتحاد میں شراکت کے معاہدے پر دستخط کے بعد نماز پڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ منصور عباس اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب بلاک کے لیڈر ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے مُصلّے پر بیٹھے منصور کی تصویر کو ’’نئے حکومتی اتحاد کے معاہدے پر ان کے دستخط کی تصویر کے ساتھ منسلک کر دیا۔ نئے اتحاد میں وہ یہودیوں کے دائیں بازو کے شدت پسند صہیونی رہ نما نفتالی بینیٹ اور بائیں بازو کے رہ نما یائر لیپڈ کے ساتھ حکومت میں شریک ہوں گے۔

منصور عباس نے نئی اسرائیلی حکومت میں  معاہدے پر دستخط کردیئے
منصور عباس نے نئی اسرائیلی حکومت میں معاہدے پر دستخط کردیئے

اگرچہ الاخوان المسلمین تنظیم ہر سو غداری اور ایجنٹی کے الزامات عاید کرتی ہے تاہم آج اس نے اپنے موقف کے تضاد کی چیختی چلاتی مثال پیش کر دی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسلامک موومنٹ کی مجلس شوریٰ نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب جماعتوں کے بلاک کے سربراہ منصور عباس کو بائیں بازو کے لیڈر یائر لیپڈ کے ساتھ شمولیت کی اجازت دے دی تا کہ لیپڈ اسرائیلی حکومت تشکیل دے سکیں۔

منصور عباس کا تعلق بحیرہ طبریہ کے قریب واقع قصبے المغار سے ہے۔ ان کی جماعت اسرائیل میں اسلامک موومنٹ کی جنوبی ریجن کی شاخ کا سیاسی ونگ ہے۔ اسلامک موومنٹ کی تاسیسی 1971ء میں عمل میں آئی تھی اور اس کی جڑیں مصری الاخوان المسلمین سے ملتی ہیں۔

منصور عباس اسرائیلی حکومت میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ
منصور عباس اسرائیلی حکومت میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ

منصور کی جماعت نے 23 مارچ کو منعقدہ انتخابات سے قبل اسرائیل میں مرکزی عرب اتحاد سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے نیتن یاہو اور دائیں بازو کے دیگر گروپوں کے ساتھ کام کیا تا کہ عربوں کے معاشی حالات بہتر بنائے جا سکیں لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ بہت سے عرب حلقے منصور عباس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی جماعت کی حکومت کے ساتھ جڑنے کا کیا جواز پیش کریں گے جو مغربی کنارے میں فوج کے قبضے اور غزہ کی پٹی کے محاصرے کی حامی ہے۔