.

شام: داعش تنظیم کے حملے میں قاسم سلیمانی کا مشیر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وسطی شہر حمص میں بشار کی سرکاری فوج کے ایک میجر جنرل نزار عباس الفہود کی تدفین کر دی گئی۔ الفہود شام کے شہر تدمر کے علاقے السخنہ میں داعش تنظیم کی جانب سے گھات لگا کر ایک فوجی گاڑی پر کیے جانے والے حملے میں مارا گیا تھا۔ کارروائی میں الفہود کے ساتھ ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک عسکری مشیر حسن عبداللہ زادہ اور اس کا ایک ساتھی محسن عباسی بھی ہلاک ہوئے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز عبداللہ زادہ اور عباسی کی موت کی خبر نشر کی تھی۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ زادہ شام میں غوطہ دمشق اور حلب کے معرکوں میں ایک اہم ترین ایرانی عسکری مشیر رہا۔

ایرانی پاسداران کے مشیر حسن عبد الله زاده قاسم سليماني کے ساتھ
ایرانی پاسداران کے مشیر حسن عبد الله زاده قاسم سليماني کے ساتھ

ایرانی خبر رساں ایجنسی "فارس" نے دونوں ایرانی مقتولین کی تصویر جاری کی ہے۔ علاوہ ازیں ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر" نے بھی عسکری حسن عبداللہ زادہ کی ایک تصویر نشر کی ہے جس میں وہ القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے ہمراہ نظر آ رہا ہے۔ سلیمانی جنوری 2020ء میں بغداد کے ہوائی اڈے کے نزدیک ایک امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

دوسر جانب شام میں اپوزیشن کے میڈیا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ داعش تنظیم نے جمعرات کے روز تدمر اور دیر الزور کے درمیان شاہراہ پر السخنہ کے علاقے میں ایرانی ملیشیاؤں کی 7 گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلے کو بھرپور حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں قافلے میں موجود تقریبا 25 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر افسران بھی شامل ہیں۔

حسن عبدالله زاده
حسن عبدالله زاده

شام میں حمص کے مشرق میں واقع علاقہ، دیر الزور اور عراق کے ساتھ سرحدی علاقہ ایرانی نفوذ کے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ عراق کے ساتھ سرحد پر واقع البوکمال مذکورہ علاقوں میں ایرانی ملیشیاؤں کا گڑھ ہے۔ ان ملیشیاؤں میں فاطميون، زينبيون، عراقی حزب اللہ اور لبنانی حزب اللہ نمایاں ترین ہیں۔ ساتھ ہی یہاں بشار کی سرکاری فوج اور اس کی ہمنوا ملیشیائیں بھی ہیں۔

داعش تنظیم کی ٹولیاں اب بھی شام کے مختلف دیہی علاقوں میں موجود ہیں۔ تقریبا ایک ہفتے سے انہوں نے اپنے حملوں کو تیز کر دیا ہے۔

مئی کے آخری ہفتے کے دوران میں داعش نے حمص ، دیر الزور اور الرقہ میں 14 سے زیادہ حملے کیے۔ اس سے قبل داعش کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق تنظیم نے رمضان کے دوران میں شام میں 79 کارروائیاں کیں۔