.

مقبوضہ القدس:اسرائیلی پولیس کی کارروائی،احتجاجی فلسطینی جڑواں بہن بھائی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے دومعروف فلسطینی جڑواں بہن بھائی کو قابض حکام کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاج کی پاداش میں اتوار کے روز گرفتار کر لیا ہے۔

منیٰ الکرد اورمحمد الکرد مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کے انخلا کی مخالفت میں چلائی جانے والی احتجاجی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں۔انھیں اس علاقے کے مکینوں کی آواز سمجھا جارہا ہے۔اسرائیلی عدالت کے ایک حکم کے تحت اس علاقے سے صدیوں سے آباد فلسطینیوں کو بے گھر کیا جارہا ہے اور ان کی جگہ یہودی آبادکاروں کو لابسایاجارہا ہے۔

منیٰ الکرد اور محمد الکرد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں کی گرفتاری اسرائیل کی شیخ جراح سے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔وہ اس مہم کے خلاف سراپا احتجاج فلسطینیوں کی آوازوں کو دبانا چاہتا ہے۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان نے 23 سالہ منیٰ کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ ’’پولیس نے ایک عدالتی حکم پر مقبوضہ بیت المقدس کی ایک مکین کو گرفتار کر لیا ہے۔اس پر شیخ جراح میں حال ہی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کا الزام ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پرجاری کردہ فوٹیج کے مطابق منیٰ کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہے اور انھیں اسرائیلی پولیس افسران کے گھر سے گرفتار کرکے لے جارہے ہیں۔

صہیونی پولیس نے ان کے جڑواں بھائی محمدالکرد سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس نے انھیں طلب کیا تھا۔اس کے بعد وہ خودایک پولیس تھانے میں پیش ہوگئے ہیں۔

ان کے والد نبیل الکرد نے کہا ہے کہ ’’جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے مخالف تمام آوازوں کو خاموش کرانا چاہتا ہے۔‘‘انھوں نے فلسطینی نوجوانوں سے شاہراہ صلاح الدین پر واقع پولیس تھانے کے باہر اپنے بیٹے اور بیٹی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کے تھانے کے سامنے احتجاج کے بعد صہیونی پولیس نے منیٰ الکرد کو رہا کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ایک اسرائیلی عدالت نے یہودی آبادکاروں کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔انھوں نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ شیخ جراح میں آٹھ فلسطینی خاندان یہودیوں کی ملکیتی اراضی پر رہ رہے ہیں۔

متاثرہ فلسطینی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اسرائیلی سپریم کورٹ میں اپیل دائرکررہے ہیں۔اس لیے اب اسرائیل نے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا سلسلہ روک دیا ہے۔

گذشتہ ماہ شیخ جراح میں فلسطینیوں سے زبردستی مکان خالی کرانے سے جنم لینے والا تنازع مسجداقصیٰ میں جھڑپوں اور پھر غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ پر منتج ہوا تھا۔حماس نے اسرائیل کی مقبوضہ بیت المقدس میں پالیسی کو سُرخ لکیر قراردیا تھا اور اسرائیلی فورسز کی تشددآمیز کارروائیوں کے ردعمل میں غزہ کی جانب راکٹ حملے شروع کردیے تھے۔اس کے جواب میں صہیونی فوج نے غزہ پر تباہ کن بمباری شروع کردی تھی۔اس کے نتیجے میں غزہ میں 66 بچّوں سمیت 254 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔