.

انتخابات کے بائیکاٹ کا خوف ، خامنہ ای نے "خالی" ووٹ دینا حرام قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 18 جون کو مقررہ صدارتی انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے۔ ایسے میں ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے ایک بار پھر عوام پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابات میں بھرپور انداز سے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

خامنہ ای کے نزدیک "خالی" ووٹ دینا حرام ہے بالخصوص جب کہ ملک کے نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنے۔

خامنہ ای کا یہ موقف ان کے دفتر کی جانب سے جاری ایک جریدے میں شائع ہونے والے ایک جواب میں سامنے آیا۔ سوال میں سادے بیلٹ پیپر (جس پر کسی امیدوار کا نام تحریر نہ ہو) کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا شرعی حکم پوچھا گیا تھا۔ خامنہ ای کے مطابق کسی بھی وجہ سے سادہ کاغذ کے ذریعے ووٹ دینا حرام ہے جب کہ اس کے نتیجے میں ایران میں اسلامی نظام کمزور ہو۔

ایرانی رہبر اعلی اپنے سابقہ بیانات میں باور کرا چکے ہیں کہ ووٹ دینا "شرعا واجب" ہے۔

ادھر ایرانی طلبہ کے سروے مرکز (ISPA) کی جانب سے کرائے جانے والے سروے کے مطابق ووٹنگ کا حق رکھنے والے ایرانیوں کی کُل تعداد میں سے 34% افراد 18 جون کو مقررہ صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب سروے میں شریک 32.4% افراد کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں کسی طور بھی ووٹ نہیں ڈالیں گے۔