.

فائزہ رفسنجانی ایرانی نظام، سیاسی جماعتوں، اصلاح پسندوں اور شسدت پسندوں پربرس پڑیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ رفسنجانی نے اپنے ایک غیر مسبوق تنقیدی بیان میں ملک کے تمام طبقات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایران کے حکمراں نظام ولایت فقیہ، حکومت، سیاسی طبقات، اصلاح پسندوں اور انتہا پسندوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک بیان میں انہوں ن ایران کے اہم اور کلیدی اداروں پر قابض شدت پسندوں کو’خوارج‘ سے تشبیہ دی اور جب کہ اصلاح پسندوں کو ’ہوا کے رخ پر چلنے والی پارٹٰی‘ قرار دیا۔

ایک مقامی اخبار’انصاف نیوز‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران میں ہرطرف بگاڑ ہی بگاڑ ہے۔ انہوں نے ایران میں رواں ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات اور اس کے لیے اختیار کردہ طریقہ کار اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی آڈیو ریکاڈنگ لیک ہونے اور دیگر امور پر کھل کر بات کی۔

ایک سوال کے جواب میں فائزہ ہاشمی نے کہا کہ وزیر خارجہ جواد جواد ظریف جھوٹ نہیں بولتے۔ان کا کہناتھا کہ ریکاڈنگ کا لیک ہونا ’ہولوکاسٹ‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آڈیو ریکاڈنگ لیک کرنے والا کوئی ہیرو نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف
ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف

انہوں نے جواد ظریف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جواد ظریف کو ریاستی پالیسیوں سے اتفاق نہیں تو انہیں وزار خارجہ کا قلم دان اپنے ہاتھ میں نہیں رکھنا چاہیے۔ اگر انہیں پالیسیوں پر اختلاف ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی
ایرانی صدر حسن روحانی

اصلاح پسندوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاح پسند ٹولہ ہوا کے رخ پر چلتا ہے۔ اصلاح پسندوں نے خود کو عوام سے الگ کرکے صرف اصلاحات کے مطالبے تک محدود کردیا ہے۔

اصلاح پسندوں کی اصل ذمہ داری ملک میں موجود سیاسی الائشوں کو ختم کرنا ہے مگر انہوں نے بھی گیند دستوری کونسل کے کورٹ میں پھینک دی۔ دوسری طرف انتہا پسند ہیں جو ہرقیمت پر اپنی مرضی کے ووٹ حاصل کرنا اور جیتنا چاہتے ہیں۔

ابراہیم رئیسی
ابراہیم رئیسی

ایک سوال کیے جواب میں فائزہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ اصلاح پسندوں صدارتی امیدواروں کی اہلیت پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جواد ظریف اور اور جہانگیری کو امیدوار بنانا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ان دونوں کے پاس حسن روحانی کی حکومت میں وزارتیں رہیں مگر انہوں نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔