.

جنگ بندی اور غزہ کی تعمیرنو پربات چیت کے لیے حماس کے وفد کی قاہرہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حماس نے اعلان کیا ہے کہ جماعت کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی سربراہی میں ایک وفد آج منگل کوقاہرہ پہنچا ہے۔ وفد کی آمد کا مقصد مصری قیادت کی دعوت پر فلسطینیوں میں مصالحت، اسرائیل اور فلسطینیون میں جنگ بندی اور غزہ کی پٹی کی تعمیر نو پر بات چیت کرنا ہے۔

دوسری جانب تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے ڈپٹی سکریٹری صبری صیدم نے اعلان کیا ہے کہ جبرل رجوب کی سربراہی میں تحریک کا ایک وفد دھڑوں کے اجلاس میں حصہ لینے اور تقسیم کو ختم کرنے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیےقاہرہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیٹیکل بیورو کے سربراہ ہنیہ، جماعت کے سیاسی شعبے کے نائب صدر الشیخ صالح العاروری ، اکٹر موسی ابو مرزوق ، عزت الرشق ، محمد نزال ، روحی مشتہی ، حسام بدران اور ظاہر جبارین قاہرہ پہنچے ہیں۔

یہ وفد آئندہ ہفتے اور اتوار کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی دھڑوں کے اجلاس میں شرکت کرےگا۔

فلسطین کے ایک سرکاری ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ حماس کا وفد فلسطینی دھڑوں کی میٹنگ میں شرکت کے علاوہ مصری حکام سے غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کے طریقہ کار ، مفاہمت کے حصول اور فلسطینیوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے سمیت اہم نکات پر تبادلہ خیال کرے گا۔ حماس کی قیادت مصری حکام سے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کےحوالے سے ہونےو الی پیش رفت پربھی بات چیت کرے گا۔

چند روز قبل مصری انٹلی جنس کے ڈائریکٹر میجر جنرل عباس کامل نے غزہ کی پٹی کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے فلسطینی دھڑوں کے رہ نماؤں سے ملاقات کی اور ان سے غزہ کی تعمیر نو اور جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا۔

اس دورے سے قبل مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے عہدیداروں کو اسرائیل اور حماس کے مابین قیدیوں اور لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں اور ملاقاتیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ فلسطینی تقسیم کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مصری صدر نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے پچاس کروڑ ڈالر کی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔