.

سعودی فوٹو گرافر نے مدینہ منورہ کی مساجد کے میناروں کا گل دستہ کیسے تیار کیا؟۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک فوٹو جرنلسٹ نے مدینہ منورہ کی مساجد کے میناروں کو حسن کو تصاویری البم کی شکل میں محفوظ کرنے کا منفرد کارنامہ انجام دے کرمیناروں کی خوبصورتی کو ایک نئی انداز میں پیش کیا ہے۔

فوٹو گرافر عبداللہ الشامانی نے مدینہ منورہ کی مشہور مساجد کے منفرد اور فن تعمیر کے شاہ کار کی میناروں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔ مدینہ منورہ کی مساجد کے مینار سعودی عرب کے دوسرے علاقوں کے میناروں سے اپنی بناوٹ، سجاوٹ،نقوش اور اشکال ہر اعتبار سے دوسرے علاقوں کی مساجد سے جدا اور ہیں۔ مدینہ طیبہ کی میں موجود مساجد اسلامی تاریخ کا ایک اپنا تابناک ماضی رکھتے ہیں۔ شہر مدینہ کی مساجد کے مینار نہ صرف خوبصورت اور منفرد ہیں بلکہ یہ حجازی رنگ، ثقافت اور قدیم وجدید اسلامی طرز تعمیر کا حسین امتزاج ہیں۔

الشامانی نے اپنے کیمرے سے مساجد کے گنبدوں کی عکاسی شروع کی جس کے بعد اس نے مساجد کے میناروں کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ اس نے مسجد قباء، مسجد بلال بن رباح، مسجد العنبریہ اور کئی دوسری تاریخی مساجد کے گنبدو مینار کی عکس بندی کی۔ عبداللہ الشمانی نے نہ صرف مساجد کے میناروں کی عکس بندی کی بلکہ فارم ہائوسز، طیبہ کے پہاڑوں اور دیگر اہم اور تاریخی مقامات کی تصویر کشی کرکے خوبصورت تصاویر کا ایک قیمتی البم تیار کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الشامانی نے کہا کہ میں نے فوٹو جرنلزم کا آغاز 2013ء میں کیا۔ فوٹو گرافی پر مجھے کئی ایوارڈ اور سرٹیفکیٹس بھی ملے۔ ان میں سنہ 2018ء میں حرمین ایکسپریس کے پہلے سفر کی عکس بندی پر مدینہ منورہ کے گورنر کی طرف سے خصوصی سند جاری کی گئی۔

اس نے بتایا کہ وہ اب تک مدینہ منورہ کے کئی تاریخی مقامات کی فوٹو گرافی کرچکا ہے جسے سوشل میڈیا پراندرون اور بیرون ملک بے حد پسند کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ تصویرکشی میران جنون ہے اور میں مقدس مقامات بالخصوص مساجد اوردینی مقامات کواپنے تصویری شوق میں دوسری چیزوں پر مقدم رکھتا ہوں۔

عبداللہ الشمانی نے کہا کہ مدینہ منورہ میں مسجد میں پہلا مینار مسجد نبوی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ مینار عہد نبوت میں بنایا گیا جہاں سے حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ اذان دیتے۔ یہ مینار مسجد سے متصل تھا۔ مینار کے قریب ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا۔ یہ مینار اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور تک قائم رہا۔

اس نے مدینہ منورہ کے گورنر عمربن عبدالعزیز کو مسجد نبوی کے میناروں کی تعداد بڑھا کر چار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے 88 اور 91ھ میں مسجد کے ہر رکن میں ایک مینار تعمیر کرایا۔