.

ایرانی مظاہرین نے سخت گیرصدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی کے ہیڈ کواٹر کو آگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مظاہرین نے ضلع جہار میں صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی کی رہائش اور ان کے مقامی دفتر کو نذر آتش کر دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ابراہیم رئیسی کا نام برسوں قبل ایران میں مخالفین کو اندھا دھند پھانسی دینے میں کمیٹی کے ایک نمایاں رکن کے طور پر لیا جاتا ہے۔

ایرانی انقلاب کے ایک بانی رہ نما آیت اللہ علی منتظری نے ایک آڈیو ریکاڈنگ میں انکشاف کیا تھا کہ سنہ 1980ء کے دوران ایران میں قیدیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام میں ابراہیم رئیسی بھی پیش پیش رہا ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور یوروپی حکومتوں کی جانب سے ایران میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر ابراہیمی رئیسی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

ابراہیم رئیسی
ابراہیم رئیسی

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس شخص کو سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی کی جگہ مستقبل کا سپریم لیڈر بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ابرائیم رئیسی ایران میں سخت گیر حلقوں اور مغرب مخالف رہ نماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

رئیسی کے ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری اور دیگر کے ساتھ بھی خوش گوار مراسم ہیں۔