.

تاریخی دستاویزات اورمآخذ کو محفوظ رکھنے کےلیے سعودی عرب کا جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے پرانی دستاویزات اور تاریخی مصادر ومآخذ کو محفوظ رکھنے کے لیے انفارمیشن اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہا ہے۔

سعودی عرب آرکائیو اور ڈیجیٹل تحفظ کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشروں اور معلوماتی سرمایہ کاری کے لیے دستاویزات کو محفوظ رکھنے کے لیے انفارمیشن اور مواصلاتی ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈیجیٹل تبدیلیوں اور معلومات اور دستاویزات کے جمع کرنے میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔ دستاویزی ذرائع ایک تاریخی خزانہ اور اقوام کی تہذیب اور تاریخ کا لازمی کا لازمی جزو ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے۔

ہر سال 9 جون کو دنیا عالمی آرکائیوز ڈے مناتا ہے۔ آرکائیو کے حوالے سے یہ دن بہت اہم مقام رکھتا ہے۔ دستاویزات کو تیار کرنے اور اس کے رجحانات کو بڑھانے کی خواہش کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں جذب کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے معلومات اور دستاویزات کو محفوظ کیا جا رہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق آرکائیوز پر بین الاقوامی کونسل کے توسط سے اقوام متحدہ کی تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی تنظیم "یونیسکو" کے ذریعہ منظور شدہ "آرکائیوز ڈے" دنیا بھر کے آرکائیول اداروں کے مابین تعاون کے طریقہ کار کو مستحکم کرنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد ذخیرہ شدہ مواد کی سطح کو بلند کرنا، معاشرے کے تمام طبقات میں دستاویزی ثقافت پھیلانے ، دستاویزات اور ریکارڈوں کے بارے میں معاشرتی شعور اجاگر کرنا، دستاویزات کے حوالے سے مناسب طرز عمل اختیار کرنا، فیصلہ ساز اداروں کو میں اس حوالے شعور کو فروغ دینا، حب الوطنی ، اپنے تشخص سے وابستگی ، گورننس اور ریاستی ایجنسیوں اورمختلف شعبوں کی ترقی کے میدان میں دستاویزات اور ریکارڈوں کی اضافی اہمیت کے بارے میں دنیا کے ممالک میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔