.

سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کے جوہری مقام پر مشکوک سرگرمیاں ظاہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی چینل فوکس نیوز نے نئی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی ہیں جن میں ایران کے مقام سنجاریان میں غیر معمولی سرگرمیاں ظاہر ہو رہی ہیں۔ ماضی میں سنجاریان کا نام مشتبہ سرگرمیوں کے حوالے سے سامنا آ چکا ہے۔

مذکورہ تصاویر میں 15 اکتوبر 2020ء کو اس مقام پر 18 گاڑیاں اور پھر 18 جنوری 2021ء کو مزید گاڑیاں نظر آئیں۔ اس کے علاوہ یہاں کھودے گئے گڑھے بھی دیکھے جا سکتے ہیں جب کہ رواں سال مارچ میں اس مقام پر موجود سڑک کو ڈھانپ دیا گیا تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اب گڑھے اور خندقیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

سنجاریان کا مقام دارالحکومت تہران سے 25 میل دور واقع ہے۔ اس مقام کا انکشاف پہلی مرتبہ 2018ء میں ہوا جب اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد نے ایران کے خفیہ جوہری دستاویزات حاصل کر لیے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے ایران کی کوشش جاری ہے۔ اب ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا بھی یہ موقف ہے کہ وہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتی۔

ویانا میں 'آئی اے ای اے' کی انتظامی کونسل کے فیصلہ کن اجلاس میں امریکا نے ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ امریکی مذاکرات کا اس معاہدے کو پھر سے بات چیت کی میز پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافائیل گروسی نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہمارے سامنے ایک ریاست ہے جس کا جوہری پروگرام انتہائی ترقی یافتہ ہے اور وہ نہایت اعلی سطح پر یورینیم کی افزودگی انجام دے رہا ہے جو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی سطح کے بہت قریب ہے"۔

گروسی کے مطابق ایرانی حکومت بارہا مشارکت، تعاون اور جوابات پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکی ہے تاہم ابھی تک ایسا کیا نہیں گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ ابھی تک کسی معاملے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

ایرانی جوہری معاہدے کی جانب واپسی کے لیے بالواسطہ بات چیت کا چھٹا دور جک جمعرات کو ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن امریکی قانون سازوں کو یہ بتا چکے ہیں کہ "ہم نہیں جانتے کہ آیا اس مرحلے پر ایران وہ کچھ کرنے کے لیے تیار اور قادر ہے جس کی جوہری معاہدے کی پاسداری کے واسطے ضرورت ہے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ مشترکہ جامع عملی منصوبے (جوہری معاہدے) ک پاسداری کی جانب لوٹنے کی صورت میں بھی سیکڑوں پابندیاں جاری و ساری رہیں گی۔ ان میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں شامل ہیں۔ یہ پابندیاں ایران کے تبدیل ہونے تک باقی رہیں گی"۔