.

سعودی عرب: ابھا میں ایک صدی قبل تعمیر کیےجانے والے تاریخی قلعے کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے تاریخی شہر ابھا کے شمال مشرق میں واقع ’قلعہ شمسان‘ تاریخی اور سیاحتی پہلوؤں سے جنوب مغربی مملکت کےعلاقے عسیر کا اہم ترین مقام ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس قلعے کی مرمت اور بحالی کا عمل مکمل کیا گیا جس کے بعد یہ قلعہ ایک بار پھر اپنی عظمت رفتہ کےساتھ روایتی فن تعمیر کا ایک شاہکار بن گیا ہے۔

قلعہ شمسان آج سے ایک سو سال قبل کوہ شمسان کی چوٹی پر تعمیر کیا گیا۔ اس قلعے کی سطح سمندر سےبلندی 2200 میٹر ہے۔ شمال میں شعار گھاٹی کی طرف سے یہ قلعہ ابھا میں داخلے کامرکزی راستہ اور طویل عرصے تک ابھا شہرکا شمال کی طرف سے دفاعی لائن رہا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ایس پی اے‘ کےمطابق ڈاکٹر محفوظ الزھرانی نے اپنی کتاب میں ابھا شہر میں 1288ھ اور 1337ھ کے عرصے میں قائم کیے جانے والے قلعوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں قلعہ الشمسان بھی شامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قلعہ شمسان 5389 مربع میٹررقبے پرمحیط ہے جو ایک ہموار چٹان پرتعمیر کیا گیا ہے۔ اس کا کا شمالی حصہ گول گنبد کی طرح ہے۔

قلعے میں داخلے کا مرکزی راستہ مغربی دیوار میں بنایا گیا تھا۔ یہ دیوار ابھا شہر کے سامنے واقع ہے۔ قلعے کے داخلی راستے پر دائیں اور بائیں محافظوں کے کھڑے ہونے کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔

ڈاکٹر الزھرانی نے لکھا ہے کہ اس قلعے کی تعمیر میں عسیر کے جنگلات میں پائے جانے والے ’عرعر‘ درخت کی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔ قلعے کے کمروں کی لمبائی اور چوڑائی کے مطابق لکڑیوں کی لمبائی بھی مختلف ہے۔

سنہ 2005ء میں اس قلعے کے ایک فیلڈ سروے کے دوران ڈاکٹر الزھرانی تفصیل کے ساتھ قلعہ شمسان کا مطالعہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ قلعے کےچاروں اطراف میں دیواریں ہیں۔ مغربی دیوار اور مغربی کونے کو پلاسٹر سے ڈھانپا گیا ہے۔ ان دیواروں کی بلندی ایک جیسی نہیں بلکہ مختلف مقامات پر الگ الگ ہے۔