.

بسترمرگ پر پڑے عرب صاحب زبان جس نے مہمان کی لغوی غلطی کی اصلاح کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لغوی غلطیوں کی اصلاح اور درستی عرب زبان میں کتب کی تصنیف و تالیف کا ایک بڑا میدان ہے۔ یہ فن جتنا وسیع ہے اتنا ہی پرانا بھی ہے۔ دوسری صدی ھجری سے ہمیں عربی زبان کی لغوی غلطیوں کی اصلاح پر کتب ملتی ہیں۔ اس حوالےسے "ما تلحن فيه العامّة" کے عنوان سے علی بن حمزہ نامی مصنف نے دوسری صدی ھجری کے دوران یہ کتاب لکھی۔ علی بن حمزہ 119ھ تا 189ھ زندہ رہے۔

قرون اولیٰ سے معاصر دور تک ہمیں لغت کی غلطیوں کی اصلاحات اور درستی پر مسلسل کتب ملتی ہیں۔ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کےدوران زبان وادب کی غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی درستی پر عربی میں 60 کتابیں لکھی گئیں۔ ان میں ڈاکٹر مصطفیٰ جواد کی کتاب "قل ولا تقل اور صلاح الدین الزعبلاوی کی "أخطاؤنا في الصحف والدواوين" یعنی اخبارات وجرائد میں ہماری غلطیاں زیادہ مشہور ہوئیں۔

عربی راگ جو لاطینی میں بدل گیا

لہجہ اور تلفظ کی غلطیوں عربی زبان میں اصطلاح سے مراد لغت میں اعراب کی عام غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی درستی ہے۔ ان کتابوں میں لفظ کی ادائیگی کو درست کرنے کے لیے ان کے اعراب درست کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر’عَجِزتُ‘ کے لفظ میں ’جیم‘ پر، جزم ہے جب کہ یہ غلط ہے۔ اسے ’جیم‘ کی زبر کے ساتھ ادا کرنا عَجَزْتُ درست ہے۔ اسی طرح عرب زبان کی ایسی کتب جن میں زبان کی غلطیوں کی اصلاح کی جاتی ہے میں کسی لفظ کے آخری حرف کے اعراب پر توجہ دی جاتی ہے تاکہ فعل اور فاعل کی تمیز کی جا سکے۔ جیسا کہ ضرب زيدٌ عمراً۔

عربی زبان میں غلطیوں کی بھرمار اس وقت ہونا شروع ہوئی مشرقی لٹریچر کے عربی میں تراجم شروع ہوئے۔ اس طرح عربی کے صوتی آہنگ میں لاطینی کی آمیزش شامل ہوگئی۔ بارہویں صدی عیسوی میں کتب کے دوسری زبانوں میں تراجم کا آغاز ہوا۔ یوہان فوک کی کتاب’تاریخ حرکۃ الاشراق‘ میں انہوں نے اسے میٹھا نغمہ لکھا ہے۔

عرب بادشاہوں کی اللحن سے نفرت

عربی زبان میں لکھے گئے لٹریچر میں عربی زبان کے الفاظ کے تلفظ کی غلطیوں کے بارے میں کئی دلچسپ واقعات مشہور ہیں۔نہ صرف اہل علم بلکہ عرب بادشاہ اور حکمران بھی تلفظ کی غلطی سے سخت نفرت کرتے تھے اور عربی الفاظ کی ادائی کے درست ہجے پر زور دیتے۔

اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے بارے میں ایسا ہی دلچسپ واقعہ مشہور ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک سوالی آیا اور اپنی ضرورت کے لیے کچھ مانگا۔ میں نے اسے کچھ دینے کا سوچا مگر جب اس نے تلفظ کی غلطی کی میں نے اسے کچھ نہیں دیا اور منہ پھیر لیا‘۔

ایک ایسا ہی واقعہ بنوامیہ کے ایک اور خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا ہے جس میں انہوں نے صراحت کے ساتھ اعلان کررکھا تھا کہ جو شخص میرے سامنے تلفظ کی غلطی کرتے گا چاہے وہ مستحق اور ضرورت مند ہی کیوں نہ ہو میں اس کی مدد نہیں کروں گا۔

زبان کی غلطی موت کی تلخی سے زیادہ سخت ہے

عرب اہل زبان الفاظ کی ادائی کے بارے میں کس قدر محتاط ہیں اس کے بارے میں کئی حیران کن واقعات بھی مشہور ہیں۔ یہاں تک کہ لفظ کی ادائیگی میں غلطی کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک قدیم نحوی عالم ابو زید الانصاری کے بارے میں مشہور ہے کہ بستر مرگ پر بیماری کی وجہ سے صاحب فراش تھے۔ ان کی عیادت کے ایک شخص ان کے گھرآیا۔ انصاری اس وقت سخت تکلیف میں تھے اور وہ اسی بیماری کے باعث انتقال بھی کرگئے۔ ابو زید الانصاری کا اصل نام سعید بن اوس بن ثابت تھا جو 122ھ تا 215ھ کے دور میں گذرے۔ ان کا سلسلہ نسب ثابت بن بشیر بن ثابت بن زید سے ملتا ہےجو ایک صحابی رسول تھے اور رسول اللہ کے عہد میں قرآن پاک کو جمع کرنے والے چھ صحابہ میں ان کا نام تھا۔

ابو عثمان المازنی ابو زید الانصاری سے ملنے آئے۔ اس وقت انصاری بستر مرگ پر تھے۔ دونوں کے درمیان گفتگو شروع ہوئی۔ المازنی کہتے ہیں کہ ابو زید نے کہا کہ میرے سینے میں شدید تکلیف ہے۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ’ أمرِخْهُ بشمعٍ ودهن‘ یعنی اس پر تیل اور موم کی مالش کرو۔ انصاری نے میرے لفظ کی تصیح کی اور کہا کہ ’ امرُخْهُ‘ میں را کی پیش ہے اور اسے زیرکے ساتھ اد کرنا غلط ہے۔