.

مصر:کالعدم الاخوان المسلمون کے 12 ارکان کی سزائے موت برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے کالعدم مذہبی و سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کے بارہ ارکان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ان میں کالعدم جماعت کے دو سینیر رہ نما بھی شامل ہیں۔

عدالتی ذرائع نے بتایا ہے کہ اعلیٰ عدالت نے کالعدم الاخخوان المسلمون کے 31 ارکان کی سزائے موت میں تخفیف کردی ہے اور انھیں عمرقید کی سزا سنائی ہے۔الاخوان کے ان کارکنان کے خلاف 2013ء میں قاہرہ میں احتجاجی دھرنے کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سزائے موت پانے والے افراد نے جرائم پیشہ گروہوں کو مسلح کیا تھا۔انھوں نے شہریوں پر حملے کیے تھے،پولیس کی مزاحمت کی تھی۔ان کے پاس آتشیں ہتھیار،گولہ بارود اور بم کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان بھی تھا۔

ان پر پولیس اہلکاروں کی ہلاکت، حکام کی مزاحمت اور سرکاری املاک پر قبضے اور توڑپھوڑ کے الزامات میں فردجرم عاید کی گئی تھی اورعدالت میں یہ تمام الزامات درست قرار پائے تھے۔

عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالت کا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کےخلاف کسی اور اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر نہیں کی جاسکتی ہے۔

یہ مقدمہ 2013ء میں الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدرڈاکٹرمحمد مرسی کی برطرفی کے خلاف قاہرہ کے مشرق میں واقع رابعہ العدویہ چوک میں دھرنے سے متعلق ہے۔تب مصری فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے ڈاکٹرمرسی کی حکومت کو برطرف کردیا تھا۔

اس اقدام کے خلاف الاخوان کے حامیوں نے کئی روز تک قاہرہ میں دھرنا دیے رکھا تھا لیکن مصری سکیورٹی فورسز نے بزورطاقت اس دھرنے کو ختم کرادیا تھا اور دھرنا دینے کے الزام میں الاخوان کے سیکڑوں کارکنان اور حامیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔

سنہ 2018ء میں مصر کی ایک عدالت نے ان میں سے 75 افراد کو سزائے موت سنائی تھی اور باقیوں کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ان میں سابق مرحوم صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے بیٹے اسامہ بھی شامل تھے۔انھیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔