.

سعودی عرب میں پتھروں سے تیار کردہ مکانات کیسے تعمیر کیے جاتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوبی پہاڑی علاقوں پر برسوں قبل تعمیر کیے جانے والے پتھروں کے مکانات آج بھی موجود ہیں جو سیاحوں اور عوام وخواص کی دلچسپی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مرور زمانہ کے تھپیڑے کھانے کے باوجود ان مکانات کی سادگی اور شان وشوکت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

ایک مقامی ٹوریسٹ گائیڈ فہد آل مقبل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وادیوں کےاندر اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر مقامی لوگ گئے وقتوں میں پتھروں کے ذریعے ایسے گھر تیار کرتے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں آل مقبل نے کہا کہ مکان کی تعمیر سے قبل اس کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب اس کی تعمیر کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کےبعد اس جگہ کو صارف کیا جاتا ہے اور مٹی کےنیچے موجود چٹان تک پہنچ کر اس پر اس کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔ اس کے بعد کاری گر جسے مقامی زبان میں ’منضی‘ کہاجاتا ہے مکان کی تعمیر کے لیے پتھر تیار کرتا ہے۔ پتھروں کو توڑ کو برابرکیا جاتا ہے یا انہیں قریبی وادیوں سے جمع کیا جاتا ہے۔

اگرپتھر قریب نہ ہوں تو دور سے پتھروں کو اونٹوں اور گدھوں پر لایا جاتا اور اس کے اس بعد گھروں کی بنیادیں تیار کی جاتی ہیں۔ پہلی منزل کی تیاری کے بعد اس پر لکڑی کی چھت ڈال دی جاتی۔ چھت کے لیے عرعر، الاثل ، ببول یا سدر کے درختوں کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے۔

ایک اور کاری گر جسے المکحل کہا جاتا ہے بڑے پتھروں کے درمیان چھوٹے پتھروں کو انتہائی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ جوڑتا اور ان کے درمیان موجود خلا کو بھرتا ہے۔

جہاں تک ان گھروں کے دریچوں اور کھڑکیوں کی بات ہے تو انہیں بھی ماہر کاری گر تیار کرتے ہیں۔ کھڑکیوں کے لیے سفید رنگ کے پتھر استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد بڑھئی ان کے لیے لکڑی کی کھڑکیاں اور دروازے بناتے ہیں۔