.

بحرِ اوقیانوس سے لوٹ کر آنے والے دو ایرانی بحری جہاز شام کی جانب رواں دواں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ " ٹینکرز ٹریکرز" نے آج منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ چند روز قبل جنوبی افریقا کے ساحلوں کو عبور کر کے بحرِ اوقیانوس میں داخل ہونے والے دونوں ایران بحری جہاز شام کی جانب گامزن ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے گذشتہ ہفتے وینزویلا اور کیوبا کو مذکورہ ایرانی جہازوں "مکران" اور "سہند" کی میزبانی یا ان میں لدے ہوئے ہتھیاروں کو قبول کرنے سے خبردار کیا تھا۔

دونوں جہازوں کی واپسی کا سبب واضح نہیں تاہم مذکورہ ویب سائٹ کے مطابق یہ دونوں جہاز روس کے ساتھ ایک بحری مشق میں شریک ہوں گے۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق گذشتہ ہفتے مکران اور سہند پہلی مرتبہ بحر اوقیانوس میں داخل ہوئے تو اس اقدام کو امریکا کے لیے نیا ایرانی خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح مبصرین نے خبردار کیا تھا کہ تہران ان میں سے ایک جہاز پر موجود چھوٹی کشتیوں کو کیریبین سمندر کے علاقے میں جہاز رانی کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کے واسطے استعمال کر سکتا ہے۔ اس سے قبل خلیج عربی میں کئی مواقع پر ایران ایسا کر چکا ہے۔

امریکا نے گذشتہ ہفتے خاص طور پر وینزویلا، کیوبا اور خطے کے دیگر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ان دونوں جہازوں کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیں۔