.

آموں کے درختوں سے پرانا عشق سعودی شہری کو کاشت کے میدان میں لے آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صوبے جازان میں ایک سعودی شہری نے 31 برس اسکول میں تدریس کے پیشے سے وابستہ رہنے کے بعد آم کی کاشت کا سہارا لے لیا۔ سعوی شہری یحیی النعمی نے اپنے فارم میں آم کی زراعت کی اور اس سے بڑے پیمانے پر پیداوار حاصل کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے النعمی نے بتایا کہ انہیں آم کا درخت کاشت کرنے سے عشق ہے۔ النعمی نے مزید بتایا کہ "میں نے تعلیم کے پیشے میں 31 برس گزارے۔ میں اپنے فارم میں آم کے درخت کاشت کرنے کے حوالے سے معلومات لیتا رہا۔ یہاں تک کہ میں ریٹائر ہو گیا اور پھر آم کی کاشت کے حوالے سے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا۔ آم کے درخت کو انتہائی توجہ اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی کاشت دشوار اور بڑے اخراجات کی حامل ہے۔ اب مجھے آم کی کاشت کے میدان میں آئے ہوئے 19 برس سے زیادہ بیت چکے ہیں۔ اب مجھے اس حوالے سے کافی تجربہ حاصل ہو چکا ہے"۔

جازان صوبے کے لوگوں میں زراعت اور کاشت کاری کا بڑ رجحان ہے جو انہیں اپنے باپ دادا سے ورثے میں ملا۔ ان میں کافی لوگ ابھی تک اس پیشے سے وابستہ ہیں اور وہ اپنے کھیت یا زرعی اراضی کو چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچتے۔

النعمی کے مطابق انہوں نے آم کی کاشت کا آغاز 1200 درختوں سے کیا تھا۔ آج ان کے فارم کی ایک دن کی پیداوار کم از کم ایک ٹن ہے۔ بعض مرتبہ یہ 3 ٹن تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

النعمی نے بتایا کہ ان کے فارم میں آموں کی 23 اقسام کاشت ہوتی ہیں جب کہ صوبے میں آموں کی 60 سے زیادہ اقسام ہیں۔ ان میں اعلی، درمیانے اور بہتر درجے کی کوالٹی ہے۔