.

ایران میں آج صدارتی انتخابات ، پولنگ میں عوام کی عدم دل چسپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آج ملک میں صدارتی انتخابات کے موقع پر دارالحکومت تہران میں کئی پولنگ مراکز پر ووٹ ڈالنے کے لیے عوام کی آمد کا تناسب کم نظر آ رہا ہے۔

ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے صبح 7:03 پر تہران کے وسط میں خمینی امام بارگاہ میں اپنا ووٹ ڈالا۔ خامنہ ای نے ایک بار پھر ہم وطنوں پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹنگ میں بھرپور طریقے سے شریک ہوں اور اس "فریضے" سے جلد از جلد فارغ ہوں۔ رہبر اعلی کے مطابق پولنگ میں وسیع پیمانے پر شرکت سے ملک اور سیاسی نظام بین الاقوامی میدان میں زیادہ کامیابیاں یقینی بنا سکے گا۔

ایران میں انتخابی کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ پولنگ کی نوبت نہ آئی تو صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہفتے کو دوپہر سے قبل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9.5 کروڑ ہے۔ ملک میں 67 ہزار پولنگ مراکز اور 75 ہزار بیلٹ بکس موجود ہیں۔ دور دوراز علاقوں اور دیہات میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بیلٹ بکس پہنچائیں گئے ہیں۔

صدارتی انتخابات میں 60 سالہ حجت الاسلام رئیسی تین دیگر امیدواروں کے ساتھ کرسی صدارت کی دوڑ میں شامل ہیں۔ رئیسی 2019ء سے ایران میں عدلیہ کے سربراہ ہیں۔ دو مسلسل مدتوں کے بعد موجودہ صدر حسن روحانی نے تیسری مرتبہ خود کو بطور امیدوار پیش نہیں کیا۔

حجت الاسلام رئیسی کی جیت کی صورت میں ایران میں اقتدار کے اداروں میں قدامت پسندوں کا وجود مضبوط ہو گا۔

آج ہونے والے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ مراکز آدھی رات تک کھلے رہیں گے۔ حکام کے مطابق کرونا کے پیش نظر بھیڑ سے بچنے کے لیے ووٹنگ کے اوقات جمعے کی شب دو بجے تک ہوں گے۔

ایران میں مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی سروے رپورٹوں کے مطابق توقع ہے کہ آج کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 40 تک رہے گا۔

اس سے قبل فروری 2020ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 57 فی صد رہا تھا۔

متعلقہ حکام نے کُل 600 کے قریب امیدواروں میں سے 7 افراد کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا۔ اس فہرست میں 5 سخت گیر اور دو اصلاح پسند امیدوار تھے۔ تاہم بدھ کے روز تین امیدواروں کی دست برداری کے بعد اب اس دوڑ میں حتمی طور پر چار امیدوار رہ گئے۔

خامنہ ای کے مقرب شمار ہونے والے حجت الاسلام رئیسی کو سخت گیر قدامت پسند محسن رضائی (پاسداران انقلاب کا سابق کمانڈر) اور امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی (رکن پارلیمنٹ) کا سامنا ہے۔ البتہ واحد اصلاح پسند امیدوار عبد الناصر ہمّتی ہے۔ وہ 2018ء سے ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ہیں۔

رئیسی کو تمام امیدواران میں سب سے زیادہ مضبوط سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے 2017ء کے صدارتی انتخابات میں 38 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران میں وہ ملک میں کئی اہم منصبوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ بالخصوص عدلیہ کے شعبے میں رئیسی ایک نمایاں ترین شخصیت ہیں۔ ایرانی میڈیا میں ان کا نام خامنہ ای کے ممکنہ جاں نشیں کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔

حالیہ انتخابات صدر حسن روحانی کے دور کو اختتام تک پہنچا دے گا۔ روحانی کی پہلی مدت صدارت کا آغاز 2013ء سے ہوا تھا۔ ان کے دور میں جولائی 2015ء میں ایران کا جوہری معاہدہ طے پایا۔ یہ سمجھوتا تہران اور عالمی طاقتوں کے بیچ ہوا۔ اس کے نتیجے میں ایران پر سے پابندیاں اٹھائی گئیں جس کے مقابل تہران کی جوہری سرگرمیوں پر روک لگائی گئی۔ البتہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کر کے ایک بار پھر ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں۔