.

روایتی آرٹ کو ڈیجیٹل آرٹ میں بدلنے والے سعودی آرٹسٹ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فائن آرٹ کے ایک آرٹسٹ نے فوٹو گرافی کے روایتی آرٹ کو جدید ڈیجیٹل آرٹ میں پیش کرکے اپنی پینٹنگز کو منفرد انداز میں پیش کرکے اس فن میں اپنی مہارت کا ثبوت پیش کیا ہے۔

مشرقی سعودی عرب میں الجبیل رائل کمیشن کے اسکولوں میں آرٹ کے استاد محمد الشنیفی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا پہلا آرٹ منصوبہ" ڈیجیٹل سینڈز "قائم کیا۔ یہ منصوبہ سنہ 2013 میں خبر شہر میں شروع ہوا جو تین مراحل میں مکمل ہوگا۔ اس میں 20 پینٹنگزشامل تھیں۔اس پر عمل درآمد میں 5 سال لگے۔ان پینٹنگز کو میرے نئے اسلوب یعنی ڈیجیٹل پینٹنگ اور ڈرائنگ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ عملا وہ اس میدان میں 2008 میں اترا 2016 میں جدہ میں اس کا "ڈیجیٹل سینڈز" کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوا جس میں 25 پینٹنگز کی نمائش کی گئی۔ اب وہ تیسرے مرحلے پر کام کر رہا ہے۔

الشنیفی نے آرٹ کے اپنے مشغلے کوحب الوطنی کی ایک علامت قرار دیا اور کہا کہ وہ وژن 2030 کےاہداف کے حصول اپنے قومی مقاصد کو ایک ایسے طریقہ کار کے ذریعے جاری رکھنے پر کام کررہا ہے جس سے عالمی سطح پر آرٹ کے میدان میں سعودی عرب کے وقار میں اضافہ ہوگا

اس نے مزید کہا کہ مجھے مصوری پسند ہے کیونکہ اس سے ناظرین کی یادداشت میں استحکام حاصل ہوتا ہے۔ ایک اچھی تصویر ہی دل میں جگہ بناتی ہے۔ ناقص ترکیب اور ناقص زاویوں کے ساتھ بنائی گئی تصاویر دیکھنے والوں کی توجہ حاصل نہیں کرسکتی۔

الشنیفی نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل آرٹس نے مجھے ایک نئے انداز میں اپنے فن کے اظہار کا موقع موقع فراہم کیا۔ میرا آرٹ روایتی فن کو معمول کے خیالات اور تراکیب سے ماخوذ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میرے فنکارانہ پیغام کی کوئی حد نہیں ہے۔ میں نے اپنی مصوری میں سماجی مسائل اور عمومی مفادات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔