.
یمن اور حوثی

حوثی حملوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کےساتھ مل کر کام کر رہے ہیں: میک کینزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ واشنگٹن یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

میک کینزی نے زور دے کر کہا کہ حوثی مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونے سے پہلے مآرب پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میک کینزی نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ یمن میں امن کے حصول میں بالکل بھی دلچسپی نہیں لے رہا ہے اور نہ ہی وہ ملک میں انسانی بہبود کے لیے کام کررہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہےکہ جنگ جاری رکھنا اس کے مفاد میں ہے۔

جمعرات کے روز یمن کے لیے امریکی خصوصی مندوب ٹم لینڈرنگ نے یمن میں امن کے حصول اور خونریزی کو روکنے میں کوششوں کی ناکامی کا ذمہ دار حوثی ملیشیا کو قرار دیا۔

یمنی وزیر خارجہ احمد بن مبارک سے ملاقات کے دوران لینڈرنگ نے عام شہریوں پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ امریکا یمن میں جاری کشیدگی کا فوری خاتمہ چاہتا ہے۔ ہم اس بحران کا فوجی حل نہیں سمجھتے۔