.

ایرانی جوہری مذاکرات ایک مشکل امر ہے : یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کے اعلی ترین نمائندے جوزپ بوریل نے باور کرایا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے ویانا میں جاری جوہری مذاکرات ،،، دشوار ہیں۔ یہ مذاکرات رواں سال اپریل میں شروع ہوئے تھے۔

پیر کے روز العربیہ / الحدث کو دیے گئے انٹرویو میں جوزپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی اور سخت گیر شخصیت ابراہیم رئیسی کا بطور صدر انتخاب کسی سجھوتے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو معطل نہیں کرے گا۔

جوزپ کے مطابق یورپی یونین کے لیے جوہری معاہدے کی طرف واپسی اہم ترین معاملہ ہے۔

ادھر ایران کے سینئر مذاکرات کار عباس عراقجی نے آج اعلان کیا ہے کہ ویانا بات چیت کا مشکل حصہ ابھی تک قائم ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف مکمل ہوں گے بلکہ موجودہ حکومت کی مدت کے دوران میں (یعنی اگست کے اوائل سے قبل) ہی ایک سمجھوتے تک پہنچا جائے گا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق عراقجی نے باور کرایا کہ اقتدار کی منتقلی کے بعد بھی ان کے ملک کا موقف ہر گز تبدیل نہیں ہو گا۔

اس سے قبل ویانا میں بات چیت کے چھٹے دور کے اختتام پر یورپی یونین کے مذاکرات کار انریکی مور کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے شرکاء معاہدے کے قریب آ گئے ہیں۔ انریکی جوہری بات چیت کی صدارت کر رہے ہیں۔ آسٹریا کے دارالحکومت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی مذاکرات کار نے یہ واضح نہیں کیا کہ بات چیت کا آئندہ دور کب شروع ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دور "نئے سیاسی ماحول" کے بارے میں "زیادہ واضح تصور" پیش کرے گا۔ ان کا اشارہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب کی جانب تھا۔