.

علی خامنہ ای کے برادر نسبتی نے اسرائیل کے سفر کی منصوبہ بندی کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب سے ملک میں حکمراں نظام کے اسکینڈلوں کے انکشاف کا سلسلہ جاری ہے۔ نژاد کے مطابق ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی اہلیہ کے بھائی "حسن خجستہ باقر زاده" نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھارت سے اسرائیل کے سفر کا پلان بنایا تھا جہاں انہیں دو ہفتے تک ایک اسرائیلی کمپنی کا مہمان بننا تھا۔ باقر زادہ صدر احمدی نژاد کے دور میں "صدائے ایران" ریڈیو کے ڈائریکٹر بھی رہے تاہم احمدی نژاد نے انہیں اس عہدے سے سبک دوش کر دیا تھا۔ باقر زادہ نے مذکورہ منصب پر 1998 سے 2014ء تک کام کیا۔ احمدی نژاد نے 2009ء میں باقر زادہ کو اسرائیل کے مذکورہ سفر سے روک دیا تھا۔ اس سفر کی منصوبہ بندی پر باقر زادہ کو کسی قانونی پوچھ گچھ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ان کی یہ خبر چھپی رہی۔ باقر زادہ اس وقت "ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن یونیورسٹی" میں بطور استاد کام کر رہے ہیں۔

احمدی نژاد نے اس معلومات کا انکشاف ایک بیان میں کیا۔ یہ بیان ایک مقامی نیوز ویب سائٹ "دولت بہار" نے جاری کیا۔ اس بیان میں سابق صدر نے باقر زادہ کی ٹویٹ کا جواب دیا ہے۔ ٹویٹ میں باقر زادہ نے احمدی نژاد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اس انتخابات کے ذریعے ہم ایک لٹیرے سے متعارف ہوئے جس کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو ووٹ دے گا اور نہ کسی امیدوار کی حمایت کرے گا"۔ یاد رہے کہ شوری نگہبان کی جانب سے احمدی نژاد کو صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار نا اہل قرار دیا گیا تھا۔

احمدی نژاد نے گذشتہ ہفتے ایران کی "وزارت سیکورٹی" میں اسرائیل کے انسداد کے ذمے دار پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اسرائیل کا جاسوس ہے اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خفیہ دستاویزات کی چوری میں شریک ہے۔ احمدی نژاد کے مطابق "حسن خجستہ باقر زادہ بھارت سے ترکی کے راستے تل ابیب جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مجھے بطور صدر جب اس بات کا علم ہوا تو میں نے انہیں سفر سے روک دیا اور اسکینڈل سے بچا لیا۔ اس کے بعد انہیں ان کے منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم مصلحت عامہ کی خاطر اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلی کے برادر نستبی کے اس معاملے پر نظر نہیں کی گئی"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی تحقیق کے مطابق علی خامنہ ای کی اہلیہ "منصورہ خجستہ باقر زادہ" کے بھائی حسن کو یونیورسٹی کی ڈگریاں جمع کرنے کا شوق رہا۔ وہ ریاضیات اور عمرانیات میں گریجویشن کی ڈگریاں رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ تہران یونیورسٹی سے بشریات میں ماسٹرز کیا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے اسٹریٹجک ایڈمنسٹریشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کیا۔