.

ٹشوز کے ذریعے کھجوروں کی افزائش کرنے والے سعودی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک مقامی شہری عبد الجبار بومرہ نےمعدوم ہونے کے خطرے سے دوچارمتعدد قسم کے کھجوروں اوردوسرے درختوں کو ٹشووں کے ذریعے کاشت کرنے کا نیا اور کامیاب تجربہ کیا ہے۔

بومرا نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کوبتایا کہ وہ ایک کسان کا بیٹا ہے اور اس کی زندگی زرعی ماحول میں ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کھجور کا درخت اس کے لیے خوراک اور زندگی کا ذریعہ ہے۔

عبدالجبار بومرہ نے انکشاف کیا کہ ٹشووں کے ساتھ کھجور کی افزائش اور اس کی نشو نما کے لیے "جمارہ" کھجور کے اندر سے نمونہ لیا گیا جسے ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا گیا۔ کچھ وقت گذرنے کے بعد وہ ٹشوز کی شکل میں ظہور پذیر ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹشو کو دوسرے برتنوں میں رکھا جاتا ہے۔یہ کھجور کے درخت کی تشکیل کا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پودا 6 مہینوں تک اس حالت میں رہتا ہے جب تک کہ جڑیں نمودار نہ ہوں اور تنے میں تبدیل ہوجائیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے کاشت کاری شرح میں کامیابی کا تناسب 100ہے۔

عبدالجبار بومرہ نے کہا کہ کھجوروں کو ٹشوز کے ساتھ کاشت کرنے کے متعدد طریقے ہیں۔ یہ مخصوص ماحول میں کھجور کی کاشت کا تازہ ترین طریقہ ہے۔ اس طریقے سے پیچیدہ اور جراثیم سے پاک صورتحال کے دوران ہزاروں پودوں کو نشوونما کے متعدد مراحل میں تیار کیا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بومرہ نے کہا کہ ٹشوز کی مدد سے کجھوروں کی کاشت کا تخیل 30 سال قبل ریاض کےایک زرعی فارم کے دورے کے دوران آیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ٹشوز کی مدد سے کھجوروں کی کاشت کے پروجیکٹ ہر سال 450،000 سے 500،000 تک پودے تیار کیے جاتے ہیں۔ انہیں لگایا جاتا یا فروخت کیا جاتا ہے۔