.

ایران رواں ماہ سیٹلائٹ چھوڑنے میں ناکام رہا: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے رواں ماہ 12 جون کو ایران کی جانب سے سیٹلائٹ چھوڑنے کی ناکام کوشش کا پتہ چلایا ہے۔ اس بات کی تصدیق امریکی ذرائع ابلاغ نے کی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے جلد ایک اور راکٹ چھورے جانے کا امکان ہے۔

رواں سال فروری میں بھی ایران مقامی طور پر تیار کیا جانے والا سیٹلائٹ فضا میں مقررہ مدار میں چھوڑنے میں ناکام رہا تھا۔

ادھر ایسا لگتا ہے کہ روس ایران کو جدید سیٹلائٹس کا نظام فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ نظام تہران کو پورے مشرق وسطی میں ممکنہ عسکری اہداف کے غیر معمولی نوعیت کے تعاقب کی صلاحیت دے گا۔ اس بات کی تصدیق امریکا اور مشرق وسطی میں موجودہ اور سابقہ ذمے داران نے کی ہے۔ ان افراد نے مذکورہ ڈیل کی تفصیلات سے آگاہی حاصل کی ہے۔

ماسکو ایران کو روسی ساختہKanopus-V مصنوعی سیارہ فراہم کرے گا۔ یہ جدید ترین کیمرے سے لیس ہے۔ اس کا مقصد جاسوسی کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر مضبوط کرنا ہے۔ اس طرح تزویراتی تنصیبات مثلا اسرائیلی فوجی اڈوں، امریکی فورسز والی عراقی عسکری بیرکیں اور خطے میں دیگر تزویراتی اہداف کی مسلسل نگرانی کی جا سکے گی۔ یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جمعے کے روز بتائی۔

کچھ عرصہ قبل روس کے ماہرین نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ اس کا مقصد شمالی شہر کاراج کے قریب بنائی جانے والی تنصیب سے سیٹلائٹ چلانے کا کام کرنے والے عملے کی تربیت میں مدد کرنا تھا۔ اس بات کی تصدیق موجودہ اور سابقہ امریکی ذمے داران نے کی ہے۔