.

سعودی عرب : 14 نئے سمندری رُوٹس سے سالانہ 1.63 مسافر مستفید ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سمندر کے راستے شہروں اور مشرقی و مغربی ساحلوں پر پھیلے جزیروں کے بیچ مسافروں کی نقل و حرکت کے بارے میں ایک اقتصادی تحقیقی مطالعہ کیا گیا۔ اس مطالعے میں 22 حکومتی اور نجی اداروں نے شرکت کی۔

شریک اداروں نے موجودہ صورت حال اور مقامی مارکیٹ کا جائزہ للے کر تجزیہ کیا تا کہ دونوں ساحلوں پر 3400 کلو پر پھیلے ممکنہ سمندر روٹس کو جانا جا سکے۔ مزید یہ کہ پانچ مجوزہ مرکزی علاقوں کا تعین کیا جا سکے جن میں خلیج عربی اور بحر احمر کے کام آنے والے 14 سمندری روٹس شامل ہیں۔

سعودی عرب میں جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے اس مطالعے کا جائزہ لیا ہے۔

اس مطالعے میں ٹرانسپورٹ سیکٹر سے مربوط 15 حکمت عملیوں اور منصوبوں پر اعتماد کیا گیا۔ ان میں سرفہرست 'نیشنل اسٹریٹجی فار ٹرانسپورٹ اینڈ لوجسٹک سروسز' کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے سے توقع ہے کہ سالانہ 1.63 کروڑ مسافر مستفید ہوں گے۔ یہ منصوبہ مشرقی ساحل اور مغربی ساحل پر 7،7 سمندری روٹس کے ذریعے شہروں اور جزیروں کو مربوط کرے گا۔ منصوبے کے نتیجے میں روزگار کے 38.3 ہزار بلا واسطہ اور بالواسطہ مواقع پیدا ہوں گے۔ مزید یہ کہ مملکت کی مجموعی مقامی پیداوار میں 8.9 ارب ریال کا اضافہ ہو گا۔

مشرقی ساحل کے مجوزہ سات روٹس میں الجبیل ، راس تنورہ، دمام، الخبر، دارین، ہاف مون بیچ اور پھر العقیر شامل ہے۔ ادھر مغربی ساحل کے مجوزہ روٹس میں جازان، جزیرہ فرسان، جدہ، کنگ عبداللہ اکنامک سِٹی، ریڈ سی پروجیکٹ، آمالا اور پھر ضباء شامل ہے۔