.

سعودی قیادت نے خواتین کو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنایا: ولید المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے باور کرایا ہے کہ سعودی قیادت کے وژن 2030 کی روشنی میں سعودی عورت کو با اختیار بنایا گیا ہے اور اس نے اپنے مثبت اور بنیادی کردار کو دوبارہ سے ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی عورت تمام میدانوں اور مختلف شعبوں میں ایک فعال اور مرکزی شریک کی حیثیت سے ضم ہو چکی ہے۔

المعلمی نے یہ بات دونوں اصناف کے درمیان مساوات اور عورت کو با اختیار بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کی آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ اجلاس 21 جون سے 23 جون 2021ء تک جاری رہے گا۔

سعودی مندوب نے خواتین کو با اختیار بنانے اور دونوں اصناف کے بیچ مساوات یقینی بنانے کے لیے جاری کوششوں پر اقوام متحدہ کی ویمن آرگنائزیشن (UN Women) کا شکریہ ادا کیا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی )ایس پی اے) کے مطابق مملکت میں مزید فیصلوں اور اصلاحات نے عورت کو مکمل شہری کا حق عطا کر دیا ہے۔ مساوات کی بنیاد پر عورت کے حقوق ، اس کا مقام اور اس کی شراکت مضبوط ہوئی ہے۔

المعلمی کے مطابق عالمی سطح پر تعجب خیز بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی اپنے ترقیاتی منصوبوں میں تمام تر کامیابی "سب سے پہلے انسان" کے موٹو کے ساتھ سامنے آ رہی ہے۔ سعودی مندوب نے زور دے کر کہا کہ مملکت نے عالمی برادری کی سمت اپنے کردار میں غفلت نہیں برتی اور دنیا بھر میں مختلف سیاقوں میں عورت کے لیے بھرپور توجہ کا اہتمام کیا۔ اس دوران میں خواتین کے کردار کو بڑھانے کے لیے تمام کوششوں کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا گیا۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ میرے ملک کا وفد یہاں ملکوں کی خود مختاری اور مختلف مذہبی، سماجی اور ثقافتی سیاقوں کے احترام پر زور دیتا ہے۔ ساتھ یہ سفارش پیش کرتا ہے کہ دنیا بھر کے معاشروں میں عورت کو با اختیار بنانے اور انہیں حقوق کی فرہامی کے لیے مزید منصوبے وضع کیے جائیں۔

المعلمی کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ویمن آرگنائزیشن کے لیے ہمیشہ کی طرح سپورٹ جاری رہے گی۔