.

پرندوں اور مقامی صحراؤں کی فوٹوگرافی کے شوقین سعودی فوٹو گرافر سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فوٹو جرنلسٹ نے اپنے فوٹو گرافی کے تجربے کو مختلف قسم کےرنگا رنگ اور ہمہ نوع پرندوں کے قدرتی جمالیاتی حسن کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے کا منفرد مشغلہ اپنا کر نایاب پرندوں اور صحراؤں کی تصاویر کا بیش قیمت ذخیرہ جمع کیا ہے۔

سعودی فوٹو گرافرسیاف القحطانی نے مملکت میں موجود پرندوں کے بسیروں اور مہاجر پرندوں کی عارضی قیام گاہوں میں پہنچ کر ان کی تصاویر لیں۔

فطرت کے فوٹوگرافر سیاف القحطانی نے چھوٹی عمر ہی سے اپنے فوٹو گرافی کے شوق کا آغاز کیا اور 2012 میں پیشہ ورانہ مہارت کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس نے بیشا فوٹوگرافی کلب کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد اس نے مناظر فطرت کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا شروع کیا۔ یوں اس نے فوٹو گرافی کے شوق کو پورا کرنے کے لیے قدرت کی کاری گری اور اس کی عظمت کو قریب سے دیکھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سیاف القحطانی نے بتایا کہ میں نے تجربہ کار فوٹوگرافروں کی مشق اور پیروی کے ذریعے فوٹو گرافی کے فن سیکھے۔ میری بصری طاقت نے اپنے مشن پر سفر جاری رکھنے میں کردار ادا کیا۔ میں ایک خصوصی نمائش کا انعقاد کرنے کی خواہش کرتا ہوں۔ میرے پاس پرندوں کی تصاویر کا بیش قیمت ذخیرہ ہے۔ یہ تصاویر سعودی عرب میں قدرتی مناظر اور پرندوں کے جمالیاتی حسن کی عکاسی کرتی ہیں۔

القحطانی نے چیلینجنگ مہم جوئی اور فوٹو گرافی کے دوروں میں مشکلات سے نکلنے کےلیے پرندوں اور نایاب جنگلی مخلوق کےتخلیقی مناظر کی تلاش جاری رکھی۔ اس نے کہا کہ میں اپنی تصاویر پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ بنانے کےلیے کام کررہا ہوں جسے ان تصاویر کو عام شہریوں کے لیے پیش کرنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کروں گا۔

سیاف القحطانی نے مزید کہا کہ کسی بھی فوٹو گرافر کے لیے فطرت اور مخلوق کی تصویر کشی ایک حقیقی چیلنج ہے کیونکہ اس نایاب لمحے کی تلاش کی مشکلات کے برعکس کبھی کبھی سائٹ تک پہنچنے میں دشواری بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوتی ہے۔ اس کے لیے انتظار ، صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔