.

اسرائیلی فوج کا ایران کی حساس جوہری تنصیب پر بمبار ڈرون سے حملے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک ایرانی جوہری مرکز پر حملہ کرنے کی کوشش میں ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ یہ مرکز سینٹرفیوجز کے لئے اجزاء تیار کرتا ہے۔

دریں اثنا سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق تہران نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی جوہری توانائی تنظیم کی عمارت کو نشانہ بنانے والی "تخریب کاری" کی کارروائی کو ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔

کل بدھ کی صبح ، جوہری توانائی تنظیم کی ایک عمارت کے خلاف تخریب کاری کی کارروائی ناکام ہوگئی۔ اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایریب نیوز نے بغیر کسی مزید تفصیلات کے اپنی ویب سائٹ پر اس واقعے کی اطلاع دی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جوہری توانائی تنظیم سے وابستہ مرکز کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے اس عمارت پر ہونے والا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

ٹیلی ویژن نے عمارت اور اس کے مقام یا اس آپریشن کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور بڑی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش میں ویانا میں بات چیت میں مصروف ہیں۔ تین سال قبل مریکا یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اس سے قبل اپنے مقابل حریف اسرائیل پر جوہری معاہدے کی سخت مخالفت کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری تنصیبات پرحملوں میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔