.

فلسطینی اتھارٹی کے نقاد نزارکی فورسز کی تحویل میں موت،عالمی سطح پرتحقیقات کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے شدید ناقد اور سابقہ پارلیمانی امیدوارنزار بنات جمعرات کو پی اے کی سیکورٹی فورسز کی تحویل میں مبیّنہ طور پر تشدد کے بعد چل بسےہیں۔اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی تنظیموں نے ان کی موت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مرحوم کے لواحقین کے مطابق نزار بنات کو بدھ کی رات اسرائیل کے مقبوضہ غربِ اردن میں واقع شہر الخلیل (ہیبرون) میں ان کے گھر سے فلسطینی سیکورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا اور اس دوران میں انھیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اس مقبوضہ شہر میں فلسطینی اتھارٹی کے مقرر کردہ گورنر کے مطابق نزار بنات کی طبیعت گرفتاری کے بعد بگڑگئی تھی اور اس کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی تھی لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

43 سالہ نزار بنات ایک معروف سماجی کارکن تھے۔انھوں نے صدرمحمودعباس کے زیرقیادت فلسطینی اتھارٹی پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھااور فلسطینی صدر پرمئی میں طویل عرصے سے التوا کا شکار انتخابات کو مزید کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کرنے اور رواں ماہ اسرائیل کے ساتھ کووِڈ-19 کی زایدالمیعادویکسین کے تبادلے کی ڈیل پرکڑی تنقید کی تھی۔

وہ پارلیمان کے انتخابات میں بہ طور امیدوار حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن اس سے پہلے ہی سکیورٹی فورسز کی حراست میں ان کی موت واقع ہوگئی ہے۔

الخلیل میں ان کے ساتھ گھر میں مقیم ان کے 21 سالہ کزن حسین بنات نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار دروازے اور کھڑکیاں توڑ کر رات کے اندھیرے میں اندر داخل ہوئے تھے اور ان کی آوازوں سے سارا خاندان جاگ گیا تھا۔اس کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے نزار بنات کوتشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور انھیں زبردستی قابومیں لینے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے چچازاد بھائی کے سر پرآہنی سلاخوں سے وارکیے تھے۔وہ ان ہی سلاخوں سے کھڑکیاں توڑ کر گھرکے اندر داخل ہوئے تھے۔ان کے بہ قول سکیورٹی اہلکار آٹھ منٹ تک مسلسل نزار پر تشدد کرتے رہے تھے۔

خاندان کے ایک اور فرد نے انھیں مخاطب ہوکرکہا تھا کہ ’’اگر تم اسے گرفتار کرنے آئے ہوتو اسے لے جاؤ۔ وحشت کیوں پھیلا رہے ہوں اور اس کو تشدد کا نشانہ کیوں بنا رہے ہو۔‘‘اس شخص کا کہنا ہے کہ نزار بنات گرفتاری کے وقت تک زندہ تھے لیکن جب انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا توان کی چیخوں کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔

الخلیل کے گورنر جبرین الباکری نے ایک بیان میں کہا کہ بنات کی گرفتاری فلسطینی اتھارٹی کے اٹارنی جنرل کے حکم پر ہوئی تھی۔ جب انھیں تحویل میں لیا گیا تو ان کی صحت کی حالت خراب ہو گئی تھی اورانھیں فوری طور پر الخلیل کے سرکاری اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انھیں طبی معائنے کے بعد مردہ قرار دے دیا تھا۔

افسوس ناک واقعہ

اقوام متحدہ کے مشرق اوسط میں امن ایلچی ٹور وینسلینڈ نے ٹویٹر پر کہا کہ وہ نزار کی موت پر خوف زدہ اور غم زدہ ہیں۔انھوں نے اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے بنات کے اہل خانہ سے اظہارتعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

فلسطین کے لیے یورپی یونین کے وفد نے ٹویٹر پرایک بیان میں کہا کہ وہ اس موت پر ’’حیران اور غمزدہ‘‘ہے۔اس نے ان کی موت کی فوری طور پر مکمل، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی رابطہ کار لین ہیسٹنگز نے بھی اس اطلاع کو پریشان کن قرار دیا ہے اوراس واقعہ میں ملوّث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطین کے آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق نے ان کی موت کو ایک سنگین واقعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے زیر قبضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں محدود حق حکمرانی استعمال کرتی ہے ۔اس علاقے میں قریباً 31 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔

گذشتہ پیر کے روز نزار بنات نے فلسطینی اتھارٹی کی اسرائیل سے کووِڈ-19 کی ویکسین کے تبادلے کی ڈیل پر کڑی تنقید کی تھی اور فلسطینی حکام کو ’’کرائے کے فوجی‘‘قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی۔اس کے بعد پی اے نے فوری طور پر اس ڈیل کو منسوخ کر دیا تھا۔واضح رہے کہ فیس بک پر ان کے فالورز کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

مرحوم 22مئی کو بہ طور امیدوار فلسطینی پارلیمان کا انتخاب لڑنے ارادہ رکھتے تھے لیکن صدر محمودعباس نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان انتخابات کو ملتوی کر دیا تھا۔تاہم مخالفین نے صدر عباس پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے اپنے حریفوں سے شکست سے بچنے کے لیے ان انتخابات کو منسوخ کیا ہے۔