.

یمن میں "برقی ریال" متعارف کرانے کا حوثی ملیشیا کا نیا حربہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے ملک میں بینکنگ اور مالیاتی نظام کو برباد کرنے کے لیے نت نئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت میں حوثی ملیشیا نے "برقی ریال" (الکٹرونک کرنسی) کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کر دی ہے۔

حوثی ملیشیا نے نئی برقی کرنسی جاری کرنے کے ذریعے ملکی نظام سے اقتصادی علاحدگی کے اقدامات کی تیاری کا آغاز کر دیا ہے۔

حوثیوں نے اس کوشش سے پہلے تجارتی بینکوں کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ آئینی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنی شاخوں اور عدن میں مرکزی بینک کے درمیان نیٹ ورک رابطہ منقطع کر دیں۔

اس سلسلے میں صنعاء میں مرکزی بینک کی شاخ میں کام کرنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے سابق وزیر صالح شعبان کے زیر قیادت اقتصادی کمیٹی نے "برقی ریال" کے اجرا کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا اس بات کی منصوبہ بندی کر رہ ہے کہ یہ نام نہاز برقی ریال کاغذی کرنسی کا متبادل ہو۔ ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا برقی ریال سے تبدیل کرنے کے بہانے مقامی آبادی کی جمع پونجی اپنے قبضے میں لینا چاہتی ہے۔