.

سعودی شہری نے 10 ہزار فن پاروں سے اپنا ’عجائب گھر‘ بنالیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک مقامی شہری ناصر الفیان نے گذشتہ ربع صدی کے دوران نایاب فن پاروں کی کثیر تعداد جمع کرتے ہوئے اپنے گھر کو عجائب گھرمیں تبدیل کریا۔

سعودی عرب کے مغرب میں الاطاولہ گورنری میں ناصر الفیان نے پتھروں اور عرعر کے درخت سے اپنے گھر سے متصل ایک مکان تعمیر کیا جسے اس نے عجائب گھر میں بدل دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الفیان نے کہا کہ اس نے 1414ھ سے فن پارے جمع کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ سنہ 1438ھ میں اس نے الگ سے عجائب گھرتعمیر کیا۔

ایک سوال کے جواب میں الفیان نے کہا کہ عجائب گھر کا ایک بیرونی منظر ہے جس میں ماحول کی مجسم نمائندگی کرنے والا ایک کنواں اور دیگر اشیا کے مجسمے بنائے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عجائب گھر کے بیرونی حصے میں ایک جھونپڑی ہے جسے پرانے دور کے طرز تعمیر پر بنایا گیا ہے۔ یہ ایک ثقافتی علامت ہے۔ یہاں پر سیاح آتے اور مہمان قیام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ادبی محفلیں بھی منعقد ہوتی ہیں۔

عجائب گھر دو منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جسے پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی چھت عرعر، عتم اور الغرب جیسے درختوں سے تیار کی گئی ہے اور دروازے پرانے طرز پر بنائے گئےہیں۔

عجائب گھر کے تین مرکزی سیکشن ہیں۔ پہلا سیکشن ’المعزب‘ کہلاتا ہے جس میں قدیم دور کے باورچی خانے میں استعمال ہونے والی اشیا رکھی گئی ہیں۔ یہاں پر کثیر تعداد میں پرانے دور کے برتن محفوظ ہیں۔

دوسرے حصے کو ’المجھا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مہمانوں کی میزبانی کا سیکشن ہے اور اس میں لالٹین، لکڑی سے بنی اشیا اور دستاویزات محفوظ ہیں۔

ناصر الفیان کے تیار کردہ عجائب گھر کےتیسرے حصے کو’الشقیق‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں پرانے مخطوطے، کرنسی کےسکے، زرعی آلات، تلواریں، اسلحہ، زیورات، خواتین کے ملبوسات اور گھر میں استعمال ہونے والی دیگر پرانی اشیا رکھی گئی ہیں۔