.

لبنان : طرابلس شہر میں رات بھر ہنگامہ آرائی ، 10 فوجی اہل کار اور متعدد مظاہرین زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں آج اتوار کو علی الصبح شمالی شہر طرابلس میں فوج تعینات کر دی گئی۔ فوج نے شہر میں مرکزی سرکاری اداروں کے گرد پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ اس سے قبل پوری رات عوامی احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔ معاشی حالات کی ابتری کے خلاف ہونے والے اس مظاہرے کے نتیجے میں کئی احتجاجی اور 10 فوجی زخمی ہو گئے۔

طرابلس شہر میں احتجاج کے دوران میں رکن پارلیمنٹ محمد کبارہ کے گھر کے باہر تعینات پہرے داروں نے احتجاج کرنے والوں کی سمت فائرنگ کر دی۔ اس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔ العربیہ / الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران میں سیکوٹی فورسز پر دستی بم پھینکے گئے جس پر لبنانی فوج کے دو اہل کار زخمی ہو گئے۔

طرابلس میں خراب معاشی حالات اور ڈالر کے تبادلے کے نرخ بڑھ جانے کے خلاف ہفتے کے روز عوامی احتجاج پھوٹ پڑا۔ احتجاجیوں نے شہر میں لبنان بینک کے بیرونی صحن پر دھاوا بول دیا اور حکام کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے بینک کا بیرونی لوہے کا دروازہ نکال ڈالا۔ تاہم فوج نے مظاہرین کو بینک کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔

ہفتے کے روز منی ایکسچینجرز نے بتایا کہ ڈالر کا نرخ بلیک مارکیٹ میں 17,300 سے 17,500 لبنانی لیرہ کے درمیان رہا۔

مظاہرین نے ایک سرکاری عمارت کے داخلی راستے پر آگ لگا دی۔ بعض افراد نے ارکان پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی مگر سیکرٹی فورسز نے انہیں روک دیا۔

ادھر صیدا شہر میں مظاہرین نے شہر میں مرکزی بینک کی شاخ پر حملہ کر دیا۔ یہاں سیکورٹی فورسز نے انہیں دور کیا۔

دارالحکومت بیروت میں بھی مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے۔ بعض احتجاجیوں نے سڑک پر ربڑ کے ٹائر جلائے۔

لبنان کو اس وقت سنگین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ یہ 19 ویں صدی کے نصف کے بعد جنم لینے والے تین بد ترین بحرانات میں سے ہو سکتا ہے۔

لبنان میں بحران کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عوام کو ایندھن کے لیے پٹرول اسٹیشنوں کے سامنے طویل قطاروں میں لگنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی دواؤں کی ایک بڑی تعداد کی قلت ہو چکی ہے جب کہ اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

فرانس کے زیر قیادت بین الاقوامی دباؤ کے باوجود لبنان میں حکومت بنانے کے لیے نامزد وزیر اعظم سعد الحریری گذشتہ برس اکتوبر سے اب تک اپنی ذمے داری پوری نہیں کر سکے۔