.

معائنے کا سمجھوتا ختم ، IAEA کو جوہری ٹھکانوں کی تصاویر ہر گز نہیں دیں گے : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سرکاری میڈیا نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران اپنے بعض جوہری ٹھکانوں کے اندر کی تصاویر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آی اے ای اے) کو ہر گز پیش نہیں کرے گا ،،، اس لیے کہ ایجنسی کے ساتھ معائنے کا معاہدہ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔

اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آج اتوار کے روز کہا کہ "معاہدے کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اب کوئی بھی مندرج معلومات ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو کسی طور فراہم نہیں کی جائے گی ، معلومات اور تصاویر ایران کے پاس ہی رہیں گی"۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایجسنی آئی اے ای اے نے جمعے کے روز فوری طور پر ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق معاہدے میں توسیع کر دے۔ تاہم ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ تہران جواب دینے کا پابند نہیں۔ واضح رہے کہ اس معاہدے کی مدت جمعے کی شب ختم ہو چکی ہے۔

آئی اے ای اے اور تہران کے درمیان یہ معاہدہ فروری میں طے پایا تھا۔ اس کی مدت 3 ماہ تھی۔ بعد ازاں اس میں 24 جون تک کے لیے ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی۔

ویانا مذاکرات کے حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ ویانا میں سمجھوتا ہونا اب بھی ممکن ہے۔ ان کا اشارہ جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکا اور بڑی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کی جانب تھا۔