.

اسرائیل نے غزہ پاورپلانٹ کے لیےایندھن لے جانے کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غزہ میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔اس وقت غزہ میں واحد پاورپلانٹ ایندھن کی مطلوبہ عدم دستیابی کی وجہ سے بہت کم مقدار میں بجلی پیدا کررہا ہے۔

فلسطینی علاقوں میں شہری امور کے ذمے دار اسرائیلی فوج کے ادارے نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’غزہ میں ایندھن لے جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ سکیورٹی جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور یہ سلامتی و استحکام سے مشروط ہے۔‘‘

اسرائیل نے 2007ء سے غزہ کی پٹی کا تین اطراف سے برّی اور بحری محاصرہ کررکھاہے اور اس محصور فلسطینی علاقے میں ایندھن سمیت عام اشیائے ضروریہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

غزہ میں گذشتہ ماہ اسرائیل کی مسلط کردہ گیارہ روزہ جنگ سے قبل بھی فلسطینیوں کو بجلی کی قلّت کا سامنا تھا اور انھیں دن میں چند گھنٹے ہی بجلی مہیا ہورہی تھی۔ جب کے بعد صورت حال اور بگڑ چکی ہے۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ ماہ غزہ کا جاری محاصرہ مزید سخت کردیا تھا لیکن اب گذشتہ ہفتے سے اس میں نرمی کی ہے اور فلسطینیوں کو زرعی پیداوار اور کپڑے برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اس کے علاوہ غزہ کی ساحلی حدود میں ماہی گیری کے علاقے کو بھی چھے ناٹیکل میل سے نو ناٹیکل میل تک بڑھا دیا ہے۔نیز عام ضروریات کا سامان تیارکرنے والی فیکٹریوں کو خام مال درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اسرائیل اورغزہ کی حکمراں حماس کے درمیان مصرکی ثالثی کے نتیجے میں 21 مئی کو جنگ بندی ہوئی تھی۔تب سے اس کی پاسداری کی جارہی ہے۔ البتہ جون کے اوائل میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔فلسطینیوں نے غزہ سے اسرائیلی علاقوں کی جانب آتش گیرمواد والے غبارے چھوڑے تھے۔ان کے پھٹنے سے وہاں کھیتوں میں آگ لگ گئی تھی۔اس کے ردعمل میں اسرائیلی فوج نےغزہ پردوبارہ فضائی حملے کیے تھے لیکن ان کے بعد فریقین کے درمیان تناؤ میں کمی آگئی تھی۔

مئی میں اسرائیلی فوج کے غزہ پر گیارہ روزہ فضائی اور زمینی حملوں میں 260 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے جبکہ فلسطینی تنظیموں کے راکٹ حملوں میں تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں ایک فوجی بھی شامل تھا۔