.

امریکا خطے کے ممالک میں اپنی مداخلت بند کرے:ایران

خطے میں تناؤ میں اضافہ امریکا کے مفاد میں نہیں،وہ غلط سمت میں آگے بڑھ رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی مداخلت بند کردے،وہ غلط سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خودامریکا کے مفاد میں نہیں۔

یہ بات ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے سوموار کو امریکی فوج کے شام اور عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ردعمل میں ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے امریکا پر زوردیا کہ وہ خطے میں نیا بحران پیدا کرنے سے گریز کرے۔

ترجمان نے کہا کہ ’’امریکا یقینی طور پرخطے میں سکیورٹی کو تہس نہس کررہا ہے لیکن اس بگاڑ کے متاثرین میں سے ایک خود امریکا ہی ہوگا۔‘‘

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے قبل ازیں سوموار کو علی الصباح شام اورعراق میں ایران نوازالحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔اس نے یہ فضائی بمباری الحشدالشعبی کے عراق میں امریکی فوجیوں اور تنصیبات پر ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی ہے۔

الحشدالشعبی نے امریکی فوج کے فضائی حملوں میں اپنے بعض جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور ان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

الحشد کے ذرائع کے مطابق عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں ایک حملے میں چار جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے الگ سے اطلاع دی ہے کہ شام کے سرحدی علاقے میں فضائی حملے میں الحشد کے پانچ جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ شام کے سرحدی علاقے میں الحشد کے فوجی ٹھکانوں کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سال کے آغاز کے بعد سے عراق میں امریکی فوجیوں ،ان کے زیراستعمال فوجی اڈوں یا تنصیبات پر 40 سے زیادہ حملے کیے جاچکے ہیں۔عراق میں اس وقت داعش مخالف اتحاد کے حصے کے طور پر امریکا کے ڈھائی ہزار فوجی تعینات ہیں۔امریکا عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں پر اپنے مفادات پر حملوں کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے۔