.

لبنان:حکومت نے مظاہروں کے بعدایندھن کی قیمت میں اضافہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی حکومت نے حالیہ ملک گیرمظاہروں کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔حکومت نے گذشتہ ہفتے ایندھن پر زرتلافی میں کٹوتی کرنے کا اعلان کیا تھا۔حکومت کے اس فیصلے سے ملک میں جاری ایندھن کی قلت تو دور ہوگی لیکن کم آمدن صارفین پرمعاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

لبنان کی وزارت توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 95-اوکٹین گیسولین کے 20 لیٹر کی قیمت 61100 لبنانی پاؤنڈز(40۰58 ڈالر) مقرر کی گئی ہے۔اس طرح 20 لیٹر کی قیمت میں حکومت نے 15900پاؤنڈزیا 35 فی صد اضافہ کیا ہے۔

20 لیٹر ڈیزل کی قیمت 46100پاؤنڈز مقرر کی گئی ہے۔اس طرح اس میں 12800 پاؤنڈز یا 38 فی صد اضافہ کیا گیا ہے۔

لبنان کے مرکزی بنک نے ایک ڈالر کے مقابلے میں 3900 پاؤنڈز کے حساب سے ایندھن درآمد کرنے کے لیے رقم مہیا کرنے کا آغاز کیا تھا۔قبل ازیں اس نے زرتلافی پروگرام کے تحت 1500 پاؤنڈز کے حساب سے ایندھن درآمد کرنے کی پیش کش کی تھی۔

تاہم ڈالر کی قدرمیں اضافہ ہورہا ہے اور منگل کومتوازی مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قدر 16700 ہوگئی تھی۔

لبنان اس وقت شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔اس سے 1975-1990ء کی خانہ جنگی کے بعد پہلی مرتبہ اس کے استحکام کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔گذشتہ ہفتوں میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کو گیسولین کے حصول کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنا پڑا ہے۔

بعض شہروں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں اور مظاہرین نے سڑکیں بند کرکے احتجاج کیا ہے اورمرکزی شاہراہوں پر کوڑے کباڑ کوآگ لگا کر بند کردیا ہے۔عالمی بنک کے مطابق اس وقت لبنان کو صدی کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔

لبنان کے مرکزی بنک نے گذشتہ ہفتے حکومت سے زرِمبادلہ کے ذخائر میں سے غیرملکی کرنسی کو ایندھن کی درآمد کے لیےاستعمال سے متعلق قانونی بنیاد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔لبنانی حکومت بیرون ملک سے ایندھن درآمد کرتی ہے اور پھراس کو زرتلافی (سب سڈی) پرعام شہریوں کو مہیّا کرتی ہے لیکن اب اس زرتلافی کو ختم کیا جارہا ہے۔

مرکزی بنک کی حکومت کو درخواست اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ لبنان کے پاس گندم، ایندھن اور ادویہ جیسی بنیادی اشیاء پر زرتلافی کے پروگرام کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں۔اس پروگرام پر لبنان سالانہ قریباً 6 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے اور اس میں سے نصف رقم ایندھن کی درآمد پرصرف ہوتی ہے۔

مرکزی بنک کا کہنا ہے کہ شہریوں کو زرتلافی دینے کی اسکیم ملک کے سماجی اور معاشی استحکام کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن سرکاری رقوم کے ضیاع کو روکنے کے لیے اس اسکیم میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔