.

ماہرین نے ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹیجی کو اہم ’سنگ میل‘ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل بدھ کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹیجی کا باقاعدہ آغاز کیا ہے، جس کا مقصد تینوں براعظموں کو آپس میں جوڑنے والے عالمی لاجسٹک سنٹر کے طور پر مملکت کے مقام کو مستحکم کرنا ، نقل و حمل کے تمام ذرائع کو بہتر بنانا اور لاجسٹک سسٹم میں انضمام اور جدید طریقوں کو فروغ دیتے ہوئے مملکت میں وسیع ترقیاتی عمل کے لیے نقل و حمل کے ذرائع کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ماہرین نے اس اقدام کو ملک کی ترقی اور خوش حالی کی طرف ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق اس حکمت عملی میں بڑے منصوبوں کا ایک پیکیج بھی شامل ہے جو معاشی اور معاشرتی اہداف کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ سسٹم میں ادارہ جاتی کام کو بڑھانے کے لیے موثر نظم و نسق کے نمونوں کو اپنانے ، وزارت ٹرانسپورٹ کو وزارت ٹرانسپورٹس اینڈ لاجسٹک سروسز تک وسعت دینے میں مدد ملے گی۔

اس موقعے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ یہ حکمت عملی مملکت میں نقل و حمل اور رسد کے شعبے میں انسانی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔عالمی معیشت کے ساتھ روابط کو فروغ دے گی اور ہمارے ملک کو اپنی جغرافیائی پوزیشن پر سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنائے گی۔ اپنی اقتصادیات کو متنوع بنانے میں تین براعظموں کے وسط میں لاجسٹک سروس کی اعلی درجے کی صنعت قائم کرنے،سروسز کے اعلی معیار کے نظام کی تشکیل ، لاجسٹکس کے شعبے میں پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، پائیدار ترقی کے حصول کے لیے مملکت کے وژن 2030 کے پروگرام اور اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس حکمت عملی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، مملکت میں متعدد پلیٹ فارمز اور لاجسٹک زونز لانچ کرنے ، جدید ترین آپریٹنگ سسٹم نافذ کرنے،گورننس کے نظام اور نجی شعبے کے مابین چار اہم اہداف کے حصول کے لیے موثر شراکت داری کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس حکمت عملی سے عالمی حیثیت سے مملکت کی پوزیشن کو مستحکم کرنے، مملکت کو بین البراعظم لاجسٹک سنٹربنانے اور سعودی شہروں میں معیار زندگی کو بہتر بنانے ،عوامی بجٹ میں توازن پیدا کرنے اور حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانے میں بھی مدد ملے گی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ اس حکمت عملی کا مقصد سعودی عرب کو عالمی سطح پر ہوائی نقل و حمل کی ٹریفک میں پانچویں مقام درجے پر لانا ہے اور 250 سے زائد بین الاقوامی فضائی روٹس کا اضافہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ حج ، عمرہ اور سیاحت کے شعبوں میں کام اور دیگر شعبوں کی قابلیت کو بہتر بنانا ہے۔ نئی ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک پالیسی کے نتیجے میں فضائی شپنگ کی صلاحیت دوگنا ہو کر چار لاکھ ٹن سالانہ ہو جائے گی۔

سمندری نقل و حمل کے شعبے میں شہزادہ محمد بن سلمان نے وضاحت کی کہ اس حکمت عملی کا مقصد ہر سال 40 ملین سے زیادہ کنٹینروں کی گنجائش کا ہدف حاصل کرنا ہے۔

اس ضمن میں مصنف اور معاشی تجزیہ کار عبد الرحمٰن الجبیری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نقل و حمل اور رسد کے لیے قومی حکمت عملی کا آغاز معاشی تبدیلیوں کے عین مطابق ایک اہم تاریخی موڑ ہے جو سعودی معیشت کی شرح نمو کو مزید بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ نیز اس پروگرام سے لاجسٹک سروسز کو مزید ترقی دینا ٹرانسپورٹ سسٹم کو فعال بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مملکت تین براعظموں کو آپس میں جوڑنے کا ایک بڑا مرکزثابت ہوگی۔ نیز یہ حکمت عملی متناسب اور متنوع نظام کے آلات کے ذریعہ متعدد فوائد کے حصول کا بھی ذریعہ ثابت ہوگی۔ لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ میں پائیداریت، تنوع ، اور ان سسٹمز میں سے سب سے اہم میں نیا ٹرانسپورٹ انڈسٹری سسٹم ہے جو وژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے۔